خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 436 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 436

436 خطبات مسرور جلد نهم خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 اگست 2011ء ” اور دعا کرو کہ یا الہی ! میں ایک تیر ا گناہگار بندہ ہوں اور افتادہ ہوں، میری رہنمائی کر ، ادنی اور اعلیٰ سب حاجتیں بغیر شرم کے خدا سے مانگو کہ اصل معطی وہی ہے۔بہت نیک وہی ہے جو بہت دعا کرتا ہے“۔(الحکم 10-17 نومبر 1904 جلد 8 نمبر 38-39 صفحہ 6 کالم 4) ( تفسیر حضرت مسیح موعود جلد اول صفحہ 281) (اصل نیکی یہی ہے کہ بہت دعا کرو۔پس جیسا کہ میں نے کہا نہ تو کسی پریشانی کے دُور کرنے کے لئے کسی جادو ٹونے کو زائل کرنے والے کی ضرورت ہے نہ دعاؤں کی قبولیت کے لئے کہیں پیروں فقیروں کی قبروں پر جانے کی ضرورت ہے۔خالص ہو کر اپنی حالتوں کی درستی کرتے ہوئے اگر بندہ خدا تعالیٰ کے آگے جھکے تو وہی ہے جو انسان کی تمام حاجتیں پوری کرنے والا ہے )۔پھر آپ فرماتے ہیں: نماز کا (جو مومن کی معراج ہے) مقصود یہی ہے ، اس میں دعا کی جاوے اور اسی لئے اتم الادعیہ اهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ دعا مانگی جاتی ہے“۔( ملفوظات جلد 2 صفحہ 346) آپ فرماتے ہیں کہ نماز میں خالص ہو کر یہ دعا مانگو اور اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ جو ہے وہ دعاؤں کی ماں ہے۔نماز معراج ہے دعاؤں کی اور اس میں اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا دعاؤں کی ماں ہے۔اور یہ مانگو تو اللہ تعالیٰ اپنے فضلوں کے دروازے کھولتا ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ: انسانی زندگی کا مقصد اور غرض صراط مستقیم پر چلنا اور اس کی طلب ہے“۔( یہ مقصد اور غرض ہے جو ہر انسان کو، ہر مومن کو اپنے سامنے رکھنا چاہئے )۔”جس کو اس سورۃ میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے ، اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ - صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ (الفاتحة : 7-6) - یا اللہ ہم کو سیدھی راہ دکھا۔اُن لوگوں کی جن پر تیرا انعام ہوا۔یہ وہ دعا ہے جو ہر وقت ہر نماز اور ہر رکعت میں مانگی جاتی ہے۔اس قدر اس کا تکرار ہی اس کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے“۔فرمایا: ”ہماری جماعت یاد رکھے کہ یہ معمولی سی بات نہیں ہے اور صرف زبان سے طوطے کی طرح ان الفاظ کا رٹ دینا اصل مقصود نہیں ہے بلکہ یہ انسان کو انسانِ کامل بنانے کا ایک کار گر اور خطانہ کرنے والا نسخہ ہے جسے ہر وقت نصب العین رکھنا چاہئے اور تعویذ کی طرح مد نظر رہے۔اس آیت میں چار قسم کے کمالات کے حاصل کرنے کی التجا ہے۔اگر یہ ان چار قسم کے کمالات کو حاصل کرے گا تو گویا دعامانگنے اور خلق انسانی کے حق کو ادا کرے گا۔اور ان استعدادوں اور قویٰ کے بھی کام میں لانے کا حق ادا ہو جائے گا جو اس کو دی گئی ہیں”۔( صِرَاط الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ (الفاتحہ: 6) میں جو چار معیار ہیں، وہ معیار یہ ہیں: نبی ہے، صدیق ہے ، شہید ہے اور صالح)۔پھر آگے فرماتے ہیں کہ ”میں یہ بھی تمہیں بتانا چاہتا ہوں کہ بہت سے لوگ ہیں جو اپنے تراشے ہوئے وظائف اور اور اد کے ذریعہ سے ان کمالات کو حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن میں تمہیں کہتا ہوں کہ جو طریق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار نہیں کیا وہ محض فضول ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر منعم علیہ کی راہ کا سچا تجربہ کار اور کون ہو سکتا ہے جن پر نبوت کے بھی سارے کمالات ختم ہو گئے۔آپ نے جو راہ اختیار کیا ہے وہ بہت ہی صحیح اور اقرب ہے۔اس راہ کو چھوڑ کر اور ایجاد کرنا خواہ وہ بظاہر کتنا ہی خوش کرنے والا معلوم ہو تا ہو میری رائے میں