خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 435
435 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 اگست 2011 ء خطبات مسرور جلد نهم خداداد قوتوں کے ذریعہ سے اپنے حال کی اصلاح کرے اور پھر اللہ تعالیٰ سے مانگے”۔( اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو طاقتیں دی ہیں، عقل ہے، شعور ہے ، اُس کے ذریعے سے اپنی اصلاح کی کوشش کرے اور پھر اللہ تعالیٰ سے مانگے کہ جو مجھے میں تھا اُس کو تو استعمال کر رہا ہوں اب تو مجھے ہدایت کی طرف لے کر آ، کیونکہ تیری مدد کے بغیر ہدایت نہیں مل سکتی۔“ یہ مطلب نہیں کہ اصلاح کی صورت میں دعانہ کرے”۔(رپورٹ جلسہ سالانہ 1897ء صفحہ 148۔بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود جلد اول صفحہ 266-267) اُس وقت بھی مانگتا ر ہے جب خود اپنے طور پر بھی کوشش کر رہا ہے تب بھی دعا ضروری ہے)۔فرمایا کہ ”اھدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ میں دعا انسان کی زبان، قلب اور فعل سے ہوتی ہے“۔(یعنی زبان سے بھی اُس کا اظہار ہو رہا ہو ، دل سے بھی اُس کا اظہار ہو رہا ہو اور انسان کے ہر عمل سے اُس کا اظہار ہو رہا ہو تبھی اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا حقیقی دعا بنے گی )۔اور جب انسان خدا سے نیک ہونے کی دعا کرے تو اُسے شرم آتی ہے مگر یہی ایک دعا ہے جو ان مشکلات کو دور کر دیتی ہے“۔(رپورٹ جلسہ سالانہ 1897 صفحہ 145) (جب انسان زبان سے اقرار کرے گا۔دل بھی اُس کا اس طرف مائل ہو گا۔کوشش بھی ہو گی تو ظاہر ہے پھر اس طرف توجہ بھی پیدا ہو گی کہ اللہ تعالیٰ سے اب میں مانگ رہا ہوں ، تو اس شرم کے ساتھ کہ دوہرا عمل ہو جائے گا انسان ایک طرف دعا کے ساتھ کوشش کر رہا ہو گا اور جب دعا کر رہا ہو گا تو پھر دوبارہ ان چیزوں میں اپنی زبان کی درستی میں، اپنے دل کی درستی میں، اپنے عملوں کی درستگی میں کوشش کر رہا ہو گا اور اسے شرم آرہی ہو گی کہ میں بغیر ان کی درستگی کے کس طرح اللہ تعالیٰ سے مانگوں کہ مجھے سیدھے رستے پر چلا )۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ : اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیم کی دعا دین اور دنیا کی ساری حاجتوں پر حاوی ہے۔کیونکہ کسی امر میں جب تک صراطِ مستقیم نہ ملے کچھ نہیں بنتا۔یہ دعا صرف روحانی طور کے لئے ضروری نہیں ہے بلکہ دنیا کی حاجتوں کے لئے بھی اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا ضروری ہے۔فرمایا کہ ”طبیب کو ، زراعت کرنے والے کو ، غرض ہر انسان کو ہر کام میں صراط مستقیم کی ضرورت ہے“۔(احکام جلد نمبر 7 شمارہ 3 مؤرخہ 24 جنوری 1903ء صفحہ 12 کالم 1 تفسیر حضرت مسیح موعود جلد اول صفحہ 281 کوئی زمیندار ہے ، ڈاکٹر ہے یا کسی بھی پیشے کا کرنے والا ہے، اس کو اپنے کام میں صراطِ مستقیم کی ضرورت ہے۔اگر نہیں ہو گی تو اس کے کام میں خرابی پیدا ہو گی)۔فرماتے ہیں کہ ”بہترین دعا فاتحہ ہے کیونکہ وہ جامع دعا ہے۔جب زمیندار کو زمینداری کا ڈھب آجاوے گا تو وہ زمینداری کے صراط مستقیم پر پہنچ جاوے گا“۔( اگر ایک زمیندار ہے اُس کو جب زمینداری کرنے کا صحیح طریق آئے گا تو تبھی وہ زمینداری کے صراطِ مستقیم پر پہنچے گا۔ایک ڈاکٹر ہے جب وہ پورا کو الیفائی کر لیتا ہے ، پڑھائی مکمل کر لیتا ہے ، پھر مختلف جگہوں پر جو اُس کے ہاؤس جاب ہوتے ہیں وہ مکمل کرتا ہے۔پھر بعض تجربہ کار ڈاکٹروں کے ساتھ کام کرتا ہے تو تبھی اُس کو صراطِ مستقیم کے جو مختلف مدارج ہیں حاصل ہوتے ہیں۔اسی طرح دوسرے پیشے کے لوگ ہیں)۔فرمایا کہ زمینداری کے صراط مستقیم پر پہنچ جاوے گا اور کامیاب ہو جاوے گا۔اسی طرح تم خدا کے ملنے کی صراط مستقیم تلاش کرو“۔( خدا کے ملنے کی بھی صراطِ مستقیم تلاش کرو۔اس کے لئے بھی پہلے کوشش کرو اور پھر دعا کرو)۔