خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 422
خطبات مسرور جلد نهم 422 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 19 اگست 2011ء ضروری ہے۔اور دونوں میں بندے کا عجز ظاہر کیا گیا ہے“۔( تفسیر حضرت مسیح موعود جلد اول صفحہ 195 الحکم 30 جون 1899 جلد نمبر 3 شمارہ نمبر 23 صفحہ نمبر 3 کالم نمبر 2) یہ دونوں چیزیں جو ہیں، عجز ظاہر کیا گیا کہ یہ پیدا کرو تو عجز پیدا ہو گا یا عجز ہو گا تو یہ چیزیں پیدا ہوں گی۔پس جب ہم اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (الفاتحه : 5) کہیں تو یہ ظاہری عمل بھی ہو اور اس کی معرفت بھی حاصل ہونی ضروری ہے کہ کیوں ہم یہ دعا پڑھ رہے ہیں اور یہ معرفت اُس وقت حاصل ہو گی جیسا کہ میں نے کہا اور جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ جب مکمل عجز ہو گا۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ : انسان خدا کی پرستش کا دعویٰ کرتا ہے مگر کیا پرستش صرف بہت سے سجدوں اور رکوع اور قیام سے ہو سکتی ہے یا بہت مرتبہ تسبیح کے دانے پھیر نے والے پر ستار الہی کہلا سکتے ہیں ؟ بلکہ پرستش اس سے ہو سکتی ہے جس کو خدا کی محبت اس درجہ پر اپنی طرف کھینچے کہ اس کا اپنا وجود در میان سے اُٹھ جائے اول خدا کی ہستی پر پورا یقین ہو اور پھر خدا کے حُسن و احسان پر ( اللہ تعالیٰ نے کتنے احسانات ہم پر کئے ہیں ) پوری اطلاع ہو۔( ہر نعمت جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملتی ہے پتا تو ہے کہ مجھے مل رہی ہے، لیکن یہ پتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملی ہے۔اُس کے حسن و احسان پر پوری اطلاع ہو ) اور پھر اُس سے محبت کا تعلق ایسا ہو کہ سوزش محبت ہر وقت سینہ میں موجود ہو اور یہ حالت ہر ایک دم چہرہ پر ظاہر ہو اور خدا کی عظمت دل میں ایسی ہو کہ تمام دُنیا اُسکی ہستی کے آگے مُردہ متصور ہو اور ہر ایک خوف اُسی کی ذات سے وابستہ ہو اور اُسی کی درد میں لذت ہو اور اُسی کی خلوت میں راحت ہو اور اُسکے بغیر دل کو کسی کے ساتھ قرار نہ ہو۔اگر ایسی حالت ہو جائے تو اس کا نام پرستش ہے۔مگر یہ حالت بجز خد اتعالیٰ کی خاص مدد کے کیو نکر پیدا ہو۔اسی لئے خدا تعالیٰ نے یہ دعا سکھلائی ہے إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (الفاتحه: 5)۔یعنی ہم تیری پرستش تو کرتے ہیں مگر کہاں حق پرستش ادا کر سکتے ہیں جب تک تیری طرف سے خاص مدد نہ ہو۔خدا کو اپنا حقیقی محبوب قرار دیکر اس کی پرستش کرنا یہی ولایت ہے جس سے آگے کوئی درجہ نہیں۔مگر یہ درجہ بغیر اس کی مدد کے حاصل نہیں ہو سکتا۔اُسکے حاصل ہونے کی یہ نشانی ہے کہ خدا کی عظمت دل میں بیٹھ جائے۔خدا کی محبت دل میں بیٹھ جائے اور دل اُسی پر توکل کرے اور اُسی کو پسند کرے اور ہر ایک چیز پر اُسی کو اختیار کرے اور اپنی زندگی کا مقصد اُسی کی یاد کو سمجھے۔“ (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 54) (بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود جلد اول صفحہ 196،195) پھر عبادت کے اصول کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : عبادت کے اصول کا خلاصہ اصل میں یہی ہے کہ اپنے آپ کو اس طرح سے کھڑ ا کرے کہ گویا خدا کو دیکھ رہا ہے اور یا یہ کہ خدا اسے دیکھ رہا ہے۔ہر قسم کی ملونی اور ہر طرح کے شرک سے پاک ہو جاوے اور اسی کی عظمت اور اسی کی ربوبیت کا خیال رکھے۔ادعیہ ماثورہ اور دوسری دعائیں خدا سے بہت مانگے اور بہت توبہ و استغفار کرے اور بار بار اپنی کمزوری کا اظہار کرے تاکہ تزکیہ نفس ہو جاوے اور خدا سے پکا تعلق پیدا ہو جاوے اور اُسی کی