خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 421 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 421

خطبات مسرور جلد نهم 421 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 اگست 2011ء جو ہے ریا کاری ہے) جو نیکیوں کو کھا جاتی ہے اور تکبر ہے جو بد ترین بدی ہے اور گمراہی ہے جو سعادت کی راہوں سے دور لے جاتی ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے ( اپنے ) کمزور بندوں پر رحم فرماتے ہوئے جو خطا کاریوں پر آمادہ ہو سکتے ہیں اور اپنی راہ میں قدم مارنے والوں پر ترس کھا کر ان مہلک بیماریوں کی دوا کی طرف اشارہ فرمایا۔پس اُس نے حکم دیا کہ لوگ اِيَّاكَ نَعْبُدُ کہا کریں تا وہ ریا کی بیماری سے نجات پائیں اور ايَّاكَ نَسْتَعِينُ کہنے کا حکم دیا تا وہ کبر اور غرور سے بچ جائیں۔پھر اس نے اھدنا کہنے کا حکم دیا تا وہ گمراہیوں اور خواہشات نفسانی سے چھٹکارا پائیں۔پس اس کا قول ايَّاكَ نَعْبُدُ خلوص اور عبودیت تامہ کے حصول کی ترغیب ہے اور اس کا کلام اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ قوت، ثابت قدمی، استقامت کے طلب کرنے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔اور اس کا کلام اهدِنَا الصِّرَاطَ اشارہ کرتا ہے کہ اللہ تعالی کی طرف سے علم اور ہدایت طلب کی جائے جو وہ ازراہ مہربانی بطور اکرام انسان کو عطا کرتا ہے۔پس ان آیات کا ماحصل یہ ہے کہ خدا کاراہ سلوک اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا اور نہ ہی وہ نجات کا وسیلہ بن سکتا ہے جب تک انتہائی اخلاص، انتہائی کوشش اور ہدایات کے سمجھنے کی پوری اہمیت حاصل نہ ہو جائے بلکہ جب تک کسی خادم میں یہ صفات نہ پائی جائیں وہ در حقیقت خدمات کے قابل نہیں ہوتا“۔(کرامات الصادقین روحانی خزائن جلد نمبر 7 صفحہ 146) ( ترجمه از تفسیر حضرت مسیح موعود جلد اول صفحہ 198-199) پس یہ مقام ہے عبد بننے کا جو ایک مومن کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مقبول دعاؤں یا مقبول عبادت کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: واضح ہو کہ اس عبادت کی حقیقت جسے اللہ تعالیٰ اپنے کرم و احسان سے قبول فرماتا ہے ( وہ در حقیقت چند امور پر مشتمل ہے) یعنی اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کی بلند و بالا شان کو دیکھ کر مکمل فروتنی اختیار کرنا نیز اس کی مہربانیاں اور قسم قسم کے احسان دیکھ کر اس کی حمد و ثنا کرنا اس کی ذات سے محبت رکھتے ہوئے اور اس کی خوبیوں، جمال اور نور کا تصور کرتے ہوئے اسے ہر چیز پر ترجیح دینا اور اس کی جنت کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے دل کو شیطانوں کے وسوسوں سے پاک کرنا ہے“۔اعجاز المسیح روحانی خزائن جلد نمبر 18 صفحه 165) ( ترجمه از تفسیر حضرت مسیح موعود جلد اول صفحہ 201) جب اس طرح کی عبادت ہو تو پھر فرمایا کہ تب ہی اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (الفاتحه: 5) کا حقیقی تصور اُبھرے گا اور انسان ان بندوں میں شامل ہو گا جو عبد الرحمان کہلانے والے ہیں۔عبادت سے مراد کیا ہے ؟ اس بارے میں مزید فرمایا کہ : خداوند کریم نے پہلی سورۃ فاتحہ میں یہ تعلیم دی ہے اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (الفاتحه: 5 ) اس جگہ عبادت سے مراد پرستش اور معرفت دونوں ہیں۔( یعنی ظاہری عبادت بھی اور اُس کا عرفان حاصل کرنا بھی