خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 423
خطبات مسرور جلد نهم 423 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 اگست 2011ء محبت میں محو ہو جاوے۔اور یہی ساری نماز کا خلاصہ ہے اور یہ سارا سورۃ فاتحہ میں ہی آجاتا ہے دیکھو ايَّاكَ نَعْبُدُ وَ ايَّاكَ نَسْتَعِينُ میں اپنی کمزوریوں کا اظہار کیا گیا ہے اور امداد کے لئے خدا تعالیٰ سے ہی درخواست کی گئی ہے اور خدا تعالیٰ سے ہی مدد اور نصرت طلب کی گئی ہے اور پھر اسکے بعد نبیوں اور رسولوں کی راہ پر چلنے کی دعامانگی گئی ہے اور ان انعامات کو حاصل کرنے کے لئے درخواست کی گئی ہے جو نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ سے اس دنیا پر ظاہر ہوئے ہیں اور جو انہیں کی اتباع اور انہیں کے طریق پر چلنے سے حاصل ہو سکتے ہیں۔اور پھر خدا تعالیٰ سے دعا مانگی گئی ہے کہ ان لوگوں کی راہوں سے بچا جنہوں نے تیرے رسولوں اور نبیوں کا انکار کیا اور شوخی اور شرارت سے کام لیا اور اسی جہان میں ہی ان پر غضب نازل ہوا۔یا جنہوں نے دنیا کو ہی اپنا اصل مقصود سمجھ لیا اور راہِ راست کو چھوڑ دیا“۔( تفسیر حضرت مسیح موعود جلد اول صفحہ 195) (احکم 24 اکتوبر 1907 جلد نمبر 11 شمارہ نمبر 38 صفحہ نمبر 11 کالم نمبر 1) گناہ سے نفرت ایک بہت بڑی نعمت ہے۔یہ کس طرح حاصل ہو سکتی ہے۔اس بارے میں آپ فرماتے ہیں کہ : اس سے بڑھ کر کوئی نعمت انسان کے لئے نہیں ہے کہ اُسے گناہ سے نفرت ہو اور خدا تعالیٰ خود اُسے معاصی سے بچالیوے مگر یہ بات نری تدبیر یا نری دعا سے حاصل نہیں ہو سکتی بلکہ دونوں سے مل کر حاصل ہو گی۔جیسے کہ خدا تعالیٰ نے تعلیم دی ہے إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (الفاتحه: 5) جس کے یہ معنے ہیں کہ جو کچھ قویٰ خدا تعالیٰ نے انسان کو عطا کئے ہیں اُن سے پورا کام لے کر پھر وہ انجام کو خدا کے سپر د کرتا ہے اور خدا تعالیٰ سے عرض کرتا ہے کہ جہاں تک تو نے مجھے توفیق عطا کی تھی اُس حد تک تو میں نے اس سے کام لے لیا۔یہ ايَّاكَ نَعْبُدُ کے معنے ہیں اور پھر ايَّاكَ نَسْتَعِينُ کہہ کر خدا سے امداد چاہتا ہے کہ باقی مرحلوں کے لئے میں تجھ سے استمداد طلب کرتا ہوں۔وہ بہت نادان ہے جو کہ خدا کے عطا کئے ہوئے قومی سے تو کام نہیں لیتا اور صرف دعا سے مدد چاہتا ہے ایسا شخص کامیابی کا منہ کس طرح دیکھے گا؟“ البدر یکم مارچ 1904 جلد نمبر 3 شمارہ نمبر 9 صفحہ نمبر 3 کالم نمبر 1-2) ( تفسیر حضرت مسیح موعود جلد اول صفحہ 204-205) فرمایا ”جو شخص دعا اور کوشش سے مانگتا ہے وہ متقی ہے۔“ (ملفوظات جلد نمبر 3 صفحہ 487 مطبوعہ ربوہ) اُسی کی دعائیں پھر قبول ہوتی ہیں۔اگر وہ کوشش کے ساتھ دعا نہیں کرتا جیسا کہ پہلے بھی بیان ہو چکا ہے تو پھر اس کا کوئی فائدہ نہیں۔پھر ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ ”اگر وہ کوششوں کے ساتھ دعا بھی کرتا ہے اور پھر اُسے کوئی لغزش ہوتی ہے تو خدا اسے بچاتا ہے“۔( ملفوظات جلد نمبر 3 صفحہ 487 مطبوعہ ربوہ) (البدر 24 دسمبر 1903ء صفحہ 384 جلد 2 نمبر 48 کالم 3)