خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 393 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 393

393 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 05 اگست 2011ء خطبات مسرور جلد نهم ساتھ کام کیا ہے ، وہ بھی اس کی تصدیق کرتی ہیں۔اُن کے ساتھ ایک کام کرنے والی پرانی صدر نے لکھا کہ لجنہ کی تربیت کا بہت خیال رہتا تھا۔اس کے لئے نئے سے نئے طریق سوچتی تھیں۔نئی تدابیر اختیار کرتی تھیں، ہمیں بتاتی تھیں۔یہ کوشش تھی کہ ربوہ کی ہر بچی اور ہر عورت تربیت کے لحاظ سے اعلیٰ معیار کی ہو۔کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ اگر پردہ کے معیار کو گرا ہوا دیکھا تو سڑک پر چلنے والی کو ، عورت ہو یا لڑکی یا لڑکیوں کو اس طرح چلتے دیکھا جو کہ احمدی لڑکی کے وقار کے خلاف ہے تو وہیں پیار سے اُس کے پاس جا کر اسے سمجھانے کی کوشش کرتیں۔بتاتیں کہ ایک احمدی بچی کے وقار کا معیار کیا ہونا چاہئے۔پردے کے ضمن میں ہی حضرت خلیفہ المسیح الرابع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک تقریر کا ایک حصہ آپ کے سامنے رکھنا چاہتا تھا۔1982ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کی خلافت کا جو پہلا جلسہ تھا اس پر لجنہ کے جلسہ گاہ میں آپ نے جو تقریر فرمائی، اس میں پردے کا بھی ذکر فرمایا۔اس ضمن میں ہماری والدہ کے متعلق ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : ”ہماری ایک باجی جان ہیں، اُن کا شروع سے ہی پردہ میں سختی کی طرف رجحان رہا ہے ، کیونکہ حضرت مصلح موعود (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کی تربیت میں جو پہلی نسل ہے اُن میں سے وہ ہیں۔جو گھر میں مصلح موعود کو اُنہوں نے کرتے دیکھا جس طرح بچیوں کو باہر نکالتے دیکھا ایسا اُن کی فطرت میں رچ چکا ہے کہ وہ اس عادت سے ہٹ ہی نہیں سکتیں۔ان کے متعلق بعض ہماری بچیوں کا خیال ہے کہ اگلے وقتوں کے ہیں یہ لوگ انہیں کچھ نہ کہو۔پاگل ہو گئے ہیں، پرانے وقتوں کے لوگ ہیں۔ایسی باتیں کیا ہی کرتے ہیں۔لیکن اگلے وقت کونسے؟ میں تو اُن اگلے وقتوں کو جانتا ہوں، فرماتے ہیں کہ) میں تو اُن اگلے وقتوں کو جانتا ہوں جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اگلے وقت ہیں۔اس لئے ان کو اگر اگلے وقتوں کا کہہ کر کسی نے کچھ کہنا ہے تو اس کی مرضی ہے وہ جانے اور خدا کا معاملہ جانے ، لیکن یہ جو میری بہن ہیں واقعہ تقویٰ پر قائم رہتے ہوئے اس بات پر سختی کرتی تھیں۔“ (خطاب حضرت خلیفة المسیح الرابع بر موقع جلسه سالانه مستورات فرمودہ 27، دسمبر 1982ء۔بحوالہ الازھار لذوات الحمار جلد دوم حصہ اول صفحہ 8) پھر جب لمبا عرصہ لجنہ کی صدر رہی ہیں تو یہ کوشش تھی کہ ربوہ کی پوزیشن ہمیشہ پاکستان کی تمام مجالس میں نمایاں رہے، اس کے لئے بھر پور کوشش کرتی تھیں۔صرف نمبر لینے کے لئے نہیں، جس طرح کہ بعض صدرات کا یا ذیلی تنظیموں کے قائدین و زعماء کا کام ہوتا ہے بلکہ اس سوچ کے ساتھ کہ ربوہ میں خلیفہ وقت کی موجودگی ہے اس لئے بھی کہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ چراغ تلے اندھیرا۔کہ خلیفہ وقت کی موجودگی کے باوجود ان کا معیار دوسروں سے نیچے ہے۔پھر اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود تھی۔ایک لکھنے والی مجھے لکھتی ہیں کہ آپ کے فیصلے بڑے دور رس نتائج کے حامل ہوتے ہیں۔مشورے ضرور لیتی تھیں اور ہر صاحب مشورہ کا بہت احترام کرتی تھیں۔مولانا ابو المنیر نورالحق صاحب کی اہلیہ لکھتی ہیں کہ میں بڑا عرصہ اپنے محلے کی صدر لجنہ رہی۔تعلیم و تربیت اور علم میں اضافے کے لئے ایک یہ بھی آپ نے اپنے ہر ممبر کو کہا