خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 392
392 خطبه جمعه فرمودہ مورخه 05 اگست 2011ء خطبات مسرور جلد نهم یہ ہے کہ دنیا میں اسلام کا جھنڈا بلند کیا جائے۔ایمان کو شریا سے واپس لایا جائے اور مخلوق کو آستانہ خدا پر گرایا جائے، یہ امید ہے جو خدا کے رسول نے کی۔اب میں اُن پر چھوڑتا ہوں وہ اس کا کیا جواب دیتے ہیں۔خواہ میری اولاد ہویا میرے بھائیوں کی، وہ اپنے دلوں میں غور کر کے اپنے فطرتوں سے دریافت کریں کہ اس آواز کے بعد اُن پر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔“ (خطبات محمود ( خطبات نکاح) جلد سوم صفحہ 342 تا345) اللہ کرے کہ ہم جو اُس رجل فارس سے منسوب ہونے والے ہیں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس درد بھرے پیغام کو سمجھ کر اپنی ذمہ داری ادا کرنے والے ہوں۔ہماری اولادیں اس کی ذمہ داری ادا کرنے والی ہوں۔ہمارے خاندان کی جو بزرگ ہستی ہم سے جدا ہوئی ہے اُس کا جدا ہونا خاندان کے افراد کو خصوصاً اور افراد جماعت کو عموماً اُس اہم فریضے کی طرف توجہ دلانے والا ہو جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی جماعت کے سپر د فرمایا ہے جس کا اظہار کئی بار مختلف موقعوں پر آپ نے فرمایا کہ میں جماعت کے کیا معیار دیکھنا چاہتا ہوں۔اپنی والدہ کی زندگی کے متفرق واقعات کا بھی میں ذکر کرتا ہوں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کی دنیاوی اور دینی تعلیم پر اس وقت کے حالات کے مطابق زور دیا، آپ کو پڑھایا، آپ کو ایف۔اے تک تعلیم دلوائی، پھر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے حضرت سیدۃ امتہ الحئی صاحبہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا کی وفات پر اظہار فرمایا تھا کہ میرے ذہن میں عورتوں کی تعلیم و تربیت کے متعلق ایک سکیم آئی ہے اس کا عملی اظہار 17 مارچ 1925ء کو ہوا جب ایک مدرسہ کھولا گیا اور میری والدہ بھی اس مدرسہ کی ابتدائی طالبات میں سے تھیں۔1929ء میں اس مدرسے کی کل سات خواتین نے مولوی فاضل کا امتحان دیا اور سب کامیاب رہیں جن میں آپ بھی شامل تھیں۔(ماخوذ از تاریخ لجنہ اماءاللہ۔جلد اول صفحہ 166 تا 170) (الفضل 13 مئی 1927ء جلد 14 نمبر 89 صفحہ 9،10) حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ نے اپنے بچوں کی آمین پر بھی ایک نظم لکھی جو دعاؤں سے پر ہے۔بعض بڑے بچوں کا اس میں ذکر فرمایا۔میری والدہ حضرت صاحبزادی ناصرہ بیگم صاحبہ کا بھی اُس میں ذکر فرمایا۔اُن کے ذکر میں فرماتے ہیں کہ وہ میری ناصرہ وہ نیک اختر عقیلہ باسعادت پاک جو ہر (الفضل نمبر 3 جلد 19 ، مورخہ 7 جولائی 1931ء صفحہ 2 و کلام محمود مع فرہنگ صفحہ 206 مطبوعہ قادیان 2008) یہ خصوصیات صرف باپ کے پیار کی وجہ سے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نظر نہیں آئیں بلکہ میری والدہ کے ساتھ کام کرنے والیاں لجنہ اماء اللہ کی بہت ساری ممبرات ہیں، جنہوں نے لمبا عرصہ اُن کے