خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 394
خطبات مسرور جلد نهم 394 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05 اگست 2011ء ہوا تھا کہ در ثمین یا کلام محمود سے ہر اجلاس میں دو شعر یاد کر کے آؤ۔تو لکھتی ہیں اس سے یہ فائدہ ہوا کہ جہاں شعروں کے ذریعہ علم و عرفان اور روحانیت میں اضافہ ہو تا تھا وہاں اجتماعوں کے موقعوں پر بیت بازی میں ربوہ کی لجنہ اول آیا کرتی تھیں۔وہ کہتی ہیں خود بھی بہت شعر یاد تھے اور یقینا مجھے بھی اس بات کا علم ہے کہ امی کو بہت شعر یاد تھے۔غالباً امام صاحب کی اہلیہ نے مجھے لکھا ہے کہ ایک مرتبہ چند خواتین کے ساتھ جماعتی دورے پر انہیں بھی میری والدہ کے ساتھ غالباً سیالکوٹ کے سفر کا موقع ملا تو آپ نے کہا کہ بجائے اس کے کہ ہم بیٹھ کر ادھر اُدھر کی باتیں کریں، گاڑی میں سفر کرتے ہوئے کار میں یا جو دین تھی، اس میں بیت بازی کرتے ہیں، سفر بھی اچھا گزر جائے گا اور ہم فضول گفتگو سے بھی بچ جائیں گے۔تو اس طرح پھر بیت بازی ہوتی رہی اور سب نے بڑا enjoy کیا۔یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ میرے والد حضرت مرزا منصور احمد صاحب کو بھی خاص طور پر در تمین کے بہت سے شعر زبانی یاد تھے اور یہ جو در خمین کی ایک لمبی نظم ہے ”اے خدا اے کار ساز و عیب پوش و کردگار “ یہ تو مجھے لگتا تھا کہ پوری نظم یاد ہے اور سفر میں جب بھی ہم جاتے تھے بیت بازی کا مقابلہ شروع ہو جاتا تھا۔ایک ٹیم ابا کی بن جاتی تھی ایک اُمی کی اور ہم بچوں کو بھی شوق پیدا کرنے کے لئے اپنے ساتھ ملالیا کرتے تھے۔اسی طرح اُمی کو قصیدہ یاد تھا۔آخری عمر میں جب یہ محسوس کیا کہ یادداشت میں کمی ہو رہی ہے، بعض شعر یا الفاظ فوری طور پر یاد نہیں آتے تو میرے والد صاحب کی وفات کے بعد اپنی نواسیوں میں سے جو بھی ساتھ سوتی تھیں، اُسے قصیدہ والی کتاب پکڑا دیتی تھیں اور خود ( زبانی) پڑھتی تھیں اور یہ روزانہ کا معمول تھا کہ ستّر اشعار والا جو قصیده ” يَا عَيْنَ فَيْضِ اللَّهِ وَالْعِرْفَانِ“ وہ مکمل ختم کر کے سوتی تھیں۔آخر عمر تک بھی کہیں کوئی ایک آدھ مصرعہ بھول جاتی ہوں گی عموماً تمام شعر یاد تھے۔اسی طرح میں نے دیکھا ہے کہ قرآنِ کریم جیسا کہ میں نے کہا، بڑے اہتمام سے غور کر کے پڑھتی تھیں۔بسا اوقات دن کے وقت جب کام سے فارغ ہوتی تھیں، یہ نہیں کہ گھر کے کام نہیں تھے ، گھر میں کام کرنے والیوں کے بھی ہاتھ بٹاتی تھیں، مختلف کاموں میں دلچسپی لیتی تھیں، لجنہ کے کام بھی ساتھ ساتھ چل رہے ہوتے تھے۔جب کام سے فارغ ہوتی تھیں تو علاوہ اس تلاوت کے جو صبح کی نماز کے بعد کیا کرتی تھیں، دس گیارہ بجے بھی میں نے دیکھا ہے گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ قرآن کریم پڑھ رہی ہوتی تھیں اور اُن کو غور کرتے دیکھا ہے۔لیکن یہ بھی تھا کہ یہ عادت بالکل نہیں تھی کہ بلاوجہ اپنی علمیت کا اظہار کریں لیکن مطالعہ بڑا گہر ا تھا۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کا مطالعہ بھی گہرا تھا جیسا کہ میں نے بتایا کہ مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا تھا، عربی پڑھی ہوئی تھی، عربی کتب بھی پڑھ لیتی تھیں اور اچھی عربی آتی تھی۔پھر دوسروں کے لئے ہمدردی کا جذبہ بہت تھا۔اپنے وسائل کے لحاظ سے جس حد تک مدد ہو سکتی تھی کرتی تھیں۔نقد بھی اور جنس کی صورت میں بھی۔دوسروں کو بھی توجہ دلاتی تھیں کہ فلاں قابل مدد ہے اس کی مدد کرو۔اس وجہ سے بعض مخیر لوگ جن کا آپ کے ساتھ قریبی تعلق تھا وہ آپ کو ہی رقم دے دیتے تھے کہ خود ہی تقسیم کر دیں۔ربوہ کی کیونکہ لمبا عرصہ صدر رہی ہیں اور محلوں میں جاکر وہاں اجلاسوں میں شامل ہوتی تھیں تو اس لئے مختلف محلوں کے غریبوں سے ذاتی واقفیت بھی تھی اور اُن کے حالات کا علم بھی تھا۔