خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 320
320 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 جون 2011ء خطبات مسرور جلد نهم اُس کی اس جدوجہد میں ایک دوست کی پگڑی اُتر گئی، ٹھوکر لگی جو بیچ میں لوگ بیٹھے ہوئے تھے کسی کی پگڑی اُتر گئی اُس سے، اور اُس نے حضور کو شکایتی رقعہ لکھ دیا۔حضور اُس کو پڑھ کر اُٹھ کھڑے ہوئے اور گھر کی کھڑکی کے پاس پہنچ کر حضرت مولانا نورالدین صاحب کو بلایا اور کھڑکی کے پاس چند باتیں کر کے اندر تشریف لے گئے۔مولوی صاحب واپس آکر کھڑے ہو گئے اور تقریر شروع کی۔تقریر تو دس پندرہ منٹ کی کی، مگر شروع کے مطلب کے الفاظ مجھے آج بھی من و عن یاد ہیں۔حضور نے فرمایا ( حضرت خلیفہ اول نے) کہ دیکھو آج میں تمہیں ایک خوفناک بات سناتا ہوں۔خود نہیں، بلکہ مامور کیا گیا ہوں (خود نہیں بتا رہا میں، بلکہ مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے) کہ یہ بات بتا دو۔تمہیں بتاؤں کہ آج ہمارا امام دعا کر رہا ہے کہ "خشک ڈالی مجھ سے کاٹی جادے“۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اُن کو کہا کہ آج میں یہ دعا کر رہا ہوں کہ جو خشک ڈالیاں ہیں وہ مجھ سے کاٹی جائیں۔جو اپنے ایمان میں مضبوط نہیں ہونا چاہتے وہ مجھ سے کٹ جائیں۔پھر حضرت خلیفہ اول نے کہا یہ بھی آگے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ تم دوسروں کے سر کچل کر خدا کا قرب حاصل نہیں کر سکتے ، قرب الہی اس کے فضل سے ملتا ہے۔(ماخوذ از روایات حضرت میاں شیخ مشتاق حسین صاحب رجسٹر روایات جلد 11 صفحہ 329 غیر مطبوعہ) لوگوں کے سروں سے پھلانگتے ہوئے جاؤ، کسی کو تکلیف دو، کسی کو ٹھو کر مارو کہ قریب پہنچ کر میں زیادہ قرب حاصل کر لوں گا۔تو فرمایا کہ لوگوں کو تکلیف دینے سے قرب نہیں ملا کرتا، قرب اللہ تعالیٰ کے فضل سے ملتا ہے اُس فضل کو تلاش کرو۔پس آج بھی بعض دفعہ میں نے دیکھا ہے بعض پڑھے لکھے لوگ بھی پھلانگتے ہوئے آگے آنے کی کوشش کرتے ہیں اُن کو احتیاط کرنی چاہئے۔جہاں جگہ ملے وہیں بیٹھ جائیں۔کسی دوسرے کی تکلیف کا باعث نہ بنیں۔اور جلسے کے دنوں میں کیونکہ رش ہوتا ہے اس لئے جو پہلے آنے والے ہیں وہ آگے آکر بیٹھ جایا کریں تا کہ پیچھے سے آنے والے آرام سے بیٹھا کریں، بجائے اس کے کہ بیچ میں جگہ خالی ہو اور پھر لوگوں کو پھلانگ کر آنا پڑے۔حضرت غلام محمد صاحب، یہ نارووال کے تھے پولہ مہاراں کے۔وہ کہتے ہیں کہ جلسہ 1904ء میں شمولیت کے لئے خاکسار بمع دیگر احمدیان چوہدری محمد سر فراز خان غیر مبائع سکنہ بدوملہی اور میاں چراغ دین صاحب مرحوم ستواڑو، چوہدری حاکم سکنہ منگولہ اور یہ سارے لوگ بہت سارے جو تھے رات کو امر تسر گاڑی پر پہنچے۔کہیں رات کو کسی جگہ بٹالے میں اترے۔کسی سید کی مسجد میں رات گزاری۔پھر صبح قادیان پہنچ گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک دالان میں تقریر فرما رہے تھے حضرت میاں بشیر احمد صاحب کا گھر ہے جہاں آج کل، یہیں پہلے مہمان خانہ ہوتا تھا۔تقریر سورۃ بقرۃ کے رکوع نمبر ایک اور سورۃ دھر کی تفسیر تھی۔نفس امارہ، نفس لوامہ ، نفس مطمئنہ کی تشریح تھی۔یعنی نفس امارہ وہ ہوتا ہے جب انسان گناہ ہی کرتا ہے۔تو نفس اتارہ غالب ہو تا ہے۔نفس لوامہ گناہ بھی کرواتا ہے اور نیک کام بھی، اور بعض بعض دفعہ نفس امارہ اور نفس لوامہ کی باہمی لڑائی رہتی