خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 319
خطبات مسرور جلد نهم 319 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 جون 2011ء حضرت میاں عبد الرحیم صاحب ولد میاں محمد عمر صاحب جو قادیان کے رہنے والے تھے کہتے ہیں کہ ایک دفعہ مولوی کرم الدین صاحب کے مقدمہ میں حضور گورداسپور تشریف لے گئے اور بوجہ روزانہ پیشیوں کے حضور نے وہاں قیام فرمالیا۔میری عادت تھی کہ میں پہلے کھانا نہیں کھایا کرتا تھا بلکہ حضور جب کھانا کھا لیتے تو پھر کھایا کرتا تھا۔سارے کا سارا کھانا پکوا کر بھجوا دیا کرتا تھا۔یہ کھانا پکواتے تھے مہمانوں کا بھی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا بھی، لیکن اپنے لئے نہیں نکالتے تھے ، سارا بھجوا دیتے تھے۔ایک دن میں نے حافظ حامد علی صاحب مرحوم کو تاکید کی کہ میرا کھانا یہاں لے آنا مگر اُس دن خواجہ کمال الدین صاحب وغیرہ کئی دوست تھے ، وہ سب کھانا کھاگئے اور میرے واسطے کچھ بھی نہیں بچا۔میں حافظ صاحب سے غصے ہو گیا اور یو نہی سو گیا۔صبح حضور نے آواز دی کہ کیا کھانا تیار ہے۔حافظ حامد علی صاحب نے حضور سے عرض کیا کہ ابھی تو کھانا پکانے والا ہی نہیں اُٹھا اور ہم سے غصہ ہیں۔پھر حضور نے کھڑکی کی طرف سے آواز دی۔کھڑ کی چوبارے کی تھی اور باورچی خانے کے سامنے تھی مگر میں نے پھر بھی آواز نہ دی۔( حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آواز دے رہے ہیں انہوں نے پھر بھی جواب نہیں دیا)۔اس پر حضور نے پھر آواز دی میں نے پھر بھی جواب نہیں دیا۔پھر حضور خود تشریف نیچے لے آئے اور فرمایا کہ ” کا کا“ آج کیا ہو گیا ہے، کھانا کس طرح تیار کرو گے ؟ اس پر حافظ حامد علی صاحب نے دوبارہ عرض کیا کہ حضور ! یہ رات سے ناراض ہے کیونکہ اس نے کہا تھا کہ حضور کے کھانے کے بعد میرا کھانالانا، مگر چونکہ کھانا بچا نہیں تھا اس لئے اس کو نہ دے سکا۔اس پر حضور نے فرمایا کہ اس کو پہلے دے دیا کرو۔اُس نے عرض کیا ( حافظ حامد علی نے) کہ یہ پہلے نہیں لیتا۔پھر حضور نے حافظ صاحب کو کہا کہ اس کے لئے ایک سیر دودھ روزانہ لایا کرو۔اُس بات کو سن کے میں مچلا بنا ہوا سو رہا تھا۔میں فوراً اُٹھا اور عرض کی کہ آدھے گھنٹے کے اندر اندر کھانا تیار ہو جائے گا۔چنانچہ میں نے جلدی جلدی آگ جلا کر آدھا گھنٹہ گزرنے سے پہلے کھانا تیار کر دیا۔جب حضور کے پاس کھانا گیا تو میں بھی اوپر چوبارے پر چلا گیا۔حضور نے پوچھا تم نے کیا طلسمات کیا ہے ؟ کیا جادو کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا پھر بتاؤں گا۔دوسرے دن صبح جب مہندی لگانے کے لئے گیا تو فرمایا کل کیا جادو کیا تھا کہ کھانا اتنی جلدی تیار ہو گیا۔چونکہ حضور اکیلے تھے میں نے حضور سے عرض کیا کہ دراصل خالی گوشت پک رہا تھا، گوشت رکھ کے تو ہلکی آنچ میں نے رکھ دی تھی، اور تیز آگ بند کی ہوئی تھی۔اُس وقت جب آپ نے کہا تو میں نے جلدی سے سبزی ڈالی اور کھانا تیار ہو گیا۔حضرت صاحب اس سے بڑے ہنسے اور خوش ہوئے۔(ماخوذ از روایات حضرت میاں عبد الرحیم صاحب رجسٹر روایات جلد 8 صفحہ 228 تا230 غیر مطبوعہ ) حضرت شیخ مشتاق حسین صاحب ولد شیخ عمر بخش صاحب گوجر انوالہ کے ہیں۔یہ کہتے ہیں 1900ء یا 1901ء کا واقعہ ہے کہ سالانہ جلسے کے ایام میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مسجد مبارک میں تشریف فرما تھے ، نماز ظہر کا وقت تھا اور نمازی جمع تھے۔حضور نماز ادا کرنے کے بعد تقریر فرمارہے تھے۔ایک شخص اُس وقت باہر سے آیا اور دوستوں کے سر سے پھاند تا ہوا حضور کے قرب میں چلا گیا۔(اوپر سے پھلانگتا ہوا آیا، آگے چلا گیا)