خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 321
خطبات مسرور جلد نهم 321 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 جون 2011ء ہے۔کبھی گناہ کی حالت غالب کر لیتی ہے، کبھی نیکی کی۔نیکی غالب ہو جانے پر ، اگر مکمل طور پر نیکی غالب آجاتی ہے جب اور گناہ دور بھاگ جاتا ہے تو پھر نفس مطمئنہ حاصل ہو جاتا ہے۔انسان گناہ نہیں کر تابلکہ نیکی سے ہی واسطہ رہتا ہے۔اس صورت میں پھر جب نفس مطمئنہ حاصل ہو جائے۔نفس امارہ و نفس لوامہ کی کشتی ہوتی ہے۔یعنی برائی کو ابھارنے والا نفس اور پھر اس پر ملامت کرنے والا نفس جو ہے وہ آپس میں لڑتے رہتے ہیں۔کبھی وہ جیت گیا، کبھی وہ جیت گیا۔کبھی وہ اوپر ہوتا ہے کبھی وہ نیچے ، کبھی وہ اوپر کبھی وہ نیچے۔پھر کہتے ہیں کہ اس کے بعد آیت اِنَّ الْابرار يَشْرَبُونَ مِنْ كَأْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُورًا (الدھر: 6) تلاوت فرمائی کہ خدا کے نیک بندے ایسے ہوتے ہیں کہ اُن کو ایسے پیالے پیش کئے جائیں گے جن میں کافور کی خاصیت ملی ہوئی ہو گی۔اس تلاوت فرمانے کے بعد فرمایا کہ جس طرح کا فوری شربت ٹھنڈک پیدا کرتا ہے ، اسی طرح جب نفس مطمئنہ حاصل ہو جاوے، اطمینان ہو جاتا ہے۔پھر یہ آیت تلاوت فرمائی کہ وَيُسْقَوْنَ فِيهَا كَأْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِيلًا ( الدهر : 18) کہ اور اس میں ان پیالوں میں پلایا جاتا ہے جس میں زنجبیل ملی ہوئی ہو گی۔پھر فرمایا کہ جس طرح زنجبیل کا شربت لذیذ ہوتا ہے ایسا ہی نفس مطمئنہ حاصل ہو جانے پر نیکی کی لذت حاصل ہو جاتی ہے۔بدی کی طرف خیال بھی نہیں جاتا۔(ماخوذ از روایات حضرت غلام محمد صاحب رجسٹر روایات جلد 3 صفحہ 172 173 غیر مطبوعہ) پس یہ روایت میں نے خاص طور پر اس لئے بھی لی تھی کہ صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی باتوں کو کس طرح سنتے تھے ؟ کس طرح اُن سے استفادہ کرتے تھے؟ اور کس طرح اُن کو یاد رکھتے تھے ؟ پھر بڑے سادہ الفاظ میں آگے بیان بھی کر دیا کہ دوسروں کو سمجھ بھی آجائے۔پس اسی سوچ کے ساتھ ہمارے یہاں جلسے پر آنے والے ہر شخص کو جلسے میں شامل ہو کر تقاریر کو سننا بھی چاہئے اور اُن سے علمی فیض بھی حاصل کرنا چاہئے ، روحانی فیض بھی حاصل کرنا چاہئے اور یاد بھی رکھنا چاہئے، تا کہ پھر آگے اس علم اور روحانیت کو پھیلانے والے بھی بنیں۔حضرت ڈاکٹر محمد دین صاحب بنوں ہسپتال کے انچارج تھے ، یہ کہتے ہیں کہ مجھے یاد پڑتا ہے کہ 1905ء میں بذریعہ خط حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کی تھی۔دستی بیعت دسمبر 1905ء میں کی۔بذریعہ خط اپریل 1905ء میں اور دستی دسمبر 1905ء میں۔جلسہ سالانہ کے موقع پر کی تھی یہ بیعت۔اُس وقت میری عمر ہیں سال کی تھی اور میں میڈیکل کالج لاہور میں سب اسسٹنٹ سر جن کلاس میں پڑھتا تھا۔بیعت کرنے کے بعد بہت سے لوگ تھے چنانچہ ایک لمبی پگڑی پھیلا دی گئی تھی جس پر لوگوں نے ہاتھ رکھے ہوئے تھے۔بیعت کنندگان میں شیخ تیمور صاحب بھی تھے۔شیخ صاحب نے پہلے بھی بیعت کی ہوئی تھی مگر ہمارے ساتھ بھی شامل ہو گئے۔حضور (حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام) کے ہاتھ پر شیخ صاحب کا ہاتھ تھا اور شیخ صاحب کے ہاتھ پر میر ا ہاتھ تھا۔حضور الفاظ بیعت فرماتے جاتے تھے اور ہم سب بیعت کنندگان اُن کو دہراتے جاتے تھے۔بیعت کے بعد حضور علیہ السلام نے دعا فرمائی تھی۔جلسے کے اختتام پر ہم پانچ ڈاکٹر کلاس کے طالب علموں نے حضور سے واپسی کے