خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 277
277 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 جون 2011ء خطبات مسرور جلد نهم نے جو زمین چھینی تھی یا اُس سے جو مل سکتی تھی وہ تو ایک ایکڑ زمین تھی اللہ تعالیٰ نے اُس کے بدلے میں اُن کو چھ ایکٹر زمین عطا فرمائی اور اخلاص و وفا میں بڑی ترقی کرنے والے ہو گئے اور تبلیغ میں بڑے آگے بڑھنے والے ہیں۔اب تک ان کی تبلیغ سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہاں اُس ماحول میں چھ جماعتیں قائم ہو چکی ہیں۔یہ ایک واقعہ 2003ء کا برکینا فاسو کا ہے، ایک گاؤں تو لتامہ کے نوجوان کا بورے موسیٰ صاحب نے اپنی قبول احمدیت کے وقت (ہمارے اُس وقت کے مبلغ کو یہ خواب سنائی کہ اُن کے والد صاحب نے اپنی عمر کے آخری حصہ میں اُنہیں بلا کر تاکید کی کہ اگر تم امام مہدی کی خبر سنو تو ٹال مٹول سے کام نہ لینا، سنجیدگی سے تحقیق کر کے قبول کر لینا۔اس نصیحت کے بعد جلد ہی والد صاحب وفات پاگئے۔میں نے بہت سوچ بچار شروع کر دی اور کثرت سے نوافل ادا کر کے دعا کی کہ خدا مجھے سچائی دکھا دے۔ایک روز میں نے رویا میں دیکھا کہ میں شہر کی طرف گیا ہوں تو دیکھا کہ سب لوگ ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں، خون بہ رہے ہیں۔میں نے ایک آدمی سے پوچھا کیوں لڑ رہے ہو ؟ وہ میری طرف مڑا اور دوسروں کو آواز دے کر کہنے لگا کہ دیکھو اس کو کسی نے نہیں مارا، اسے بھی مارو۔مجمع میری طرف بڑھا۔قریب تھا کہ وہ مجھے پکڑ کر مارتے کہ ایک بزرگ شخص نے مجھے بچے کی طرح اُٹھا لیا اور مجمع سے اُٹھا کر خطرہ سے دور لے گئے اور ایسی کھلی کشادہ سڑک پر مجھے رکھ دیا جو دور تک صاف دکھائی دے رہی تھی۔میں سڑک پر چلنے لگا۔کچھ دور ایک مسجد نظر آئی اور میں اس میں داخل ہو گیا۔اندر دیگر نمازیوں کے علاوہ عربی تبلیغ کر رہے تھے۔اس رؤیا کے بعد جب وہ وہاں بو بو جلا سو کے ہمارے مشن ہاؤس آئے ، وہاں سفید مسجد بھی دیکھی اور نمازیوں کو بھی دیکھا۔دو پاکستانی بھی دیکھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جب تصویر انہیں دکھائی گئی تو نہایت جوش سے کہنے لگے کہ خدا کی قسم یہی وہ بزرگ ہیں جو مجھے خطرہ کے وقت مجمع سے بچا کر لے گئے تھے۔چونکہ یہ وہاں کے امام تھے ان کے بیعت کرنے کی وجہ سے گاؤں میں کافی تعداد میں افراد نے احمدیت قبول کی۔پھر سینیگال کے علاقہ کا سامانس میں ایک پیر صاحب نے بیعت کی ہے۔اُن کے ماننے والے 132 مقامات پر ہیں۔ان پیر صاحب کی قبولیتِ احمدیت ایک خواب کی بنا پر ہے۔انہوں نے جامعہ مسجد میں قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائی اور بتایا کہ میں نے مندرجہ ذیل خواب دیکھا ہے اور اس خواب کو دیکھے کافی سال ہو گئے ہیں لیکن میں اس خواب کے مصداق حضرت امام مہدی علیہ السلام کا متلاشی تھا جو اب مجھے خدا کے فضل سے مل گئے۔وہ خواب اس طرح سے ہے۔کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ کلمہ طیبہ لَا اِلهَ اِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ زمین پر گرا پڑا ہے۔سارے اولیاء اور بزرگ مل کر اُس کلمہ کو اوپر بلند کرنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر نہیں کر سکے۔اتنے میں ایک بزرگ تشریف لائے جن کے بارے میں بتایا گیا کہ ان کا نام محمد المہدی ہے۔انہوں نے آکر اکیلے ہی اس کلمے کو بلند کر دیا۔امیر صاحب لکھتے ہیں کہ جب وہ اُن کے علاقہ میں دورے پر گئے تو ان کے گھر بھی گئے۔انہوں نے اپنے گھر میں ایک بینر لگایا ہوا ہے جس پر لکھا تھا أَيُّهَا سُكَّانُ الْبَلَدِ اِسْمَعُوا جَاءَ الْمَسِيحُ جَاءَ الْمَسِيحُ اسْمَعُوْا حَضْرَةَ الْمِيْرزا غلام احمد القادياني عليه السلام هُوَ الْمَسِيحُ الْمَهْدِی تو اللہ تعالیٰ دور دراز