خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 276 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 276

276 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 جون 2011ء خطبات مسرور جلد نهم میں نے ایک رات خواب میں دیکھا کہ ایک پرانے گھر میں جس میں روشنی بھی کافی مدھم ہے اس میں سورہا ہوں۔جب میں نے چھت کی طرف دیکھا تو چھت نہیں تھی۔آسمان پر مجھے ایک شخص نظر آیا جس نے سرخ رنگ کی چادر اور سنہری پگڑی زیب تن کی ہوئی تھی۔وہ شخص مجسم نور تھا اور اُس کے ارد گر دروشنی کا ایک ہالہ تھا۔وہ آسمان سے میری طرف آرہا تھا۔وہ شخص درود شریف پڑھ رہا تھا جیسے ہم احمدی پڑھتے ہیں، جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا ہے۔کہتے ہیں جب میں سولہ سترہ سال کا ہوا اُس وقت میں نے خواب میں دیکھا کہ میں جھاڑیوں سے گزرتا ہوا ایک متروک اور پرانے مکان تک آیا لیکن اس مرتبہ مکان کی مرمت اور تزئین و آرائش ہو چکی تھی۔اُس کی دیوار میں سفید اور دروازے اور کھڑکیاں سبز رنگ کی تھیں۔مجھے خواب میں ہی یہ احساس ہوتا ہے کہ اب یہ جگہ متروک نہیں رہی بلکہ اُسے عزت و حرمت دی گئی ہے۔جب میں نے مالک مکان کے آنے سے قبل ہی مکان سے نکلنا چاہا اس موقع پر ایک بزرگ شخص باہر آیا اور مجھے آواز دی۔میں خوفزدہ ہو گیا اور انکار کر دیا۔اس بزرگ نے دوبارہ آواز دی۔میں نے کہا میں اس وقت نہیں آؤں گا جب تک مجھے نہیں بتاتے کہ تم کون ہو ؟ اُس بزرگ نے جواب دیا میں آخری ایام میں آؤں گا سو میں آیا ہوں تم خوف نہ کرو۔اس پر مجھے کچھ حوصلہ ہوا اور میں اس بزرگ کے ساتھ ایک دفتر میں گیا جس میں کچھ لیبارٹری کی طرح کے آلات پڑے ہوئے تھے۔اس بزرگ نے کہا یہ میری لیبارٹری ہے اور میں کیمیا دان ہوں۔مجھے اس بزرگ سے محبت اور ہمدردی پیدا ہو گئی۔میں نے اس بزرگ سے کہا کہ آپ مکان میں افسردہ تنہازندگی گزار رہے ہوں گے۔اُس بزرگ نے جواب دیا ہماری تحریک ہر جگہ تنہا لوگوں کے لئے کام کر رہی ہے۔ہم ان تمام پیاروں اور تنہا لوگوں کی مجلس میں ہوتے ہیں۔اس کے بعد میں ان بزرگ سے الگ ہو گیا اور کہتے ہیں جب میری آنکھ کھلی ہے تو اس بزرگ کی محبت سے میری آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔اس بزرگ کی انسانیت کے لئے خدمات کے باوجود تنہازندگی پر افسردہ تھا۔دس سال بعد جب میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تصویر دیکھی تو یہ بعینہ وہی بزرگ تھے جو مجھے دونوں خوابوں میں نظر آئے تھے۔پہلی خواب میں آسمان سے نازل ہوئے اور دوسری خواب میں بزرگ کی صورت میں۔اب دیکھیں بچوں کو بھی اللہ تعالیٰ کس طرح رہنمائی فرماتا ہے۔پھر تنزانیہ کے ایک شخص محمد علی صاحب ہیں، انہوں نے خواب دیکھا کہ ایک سفید رنگ کے بزرگ نے انہیں نماز پڑھائی اور اُن کے پیچھے نماز پڑھ کر روحانی تسکین ملی۔اُن کے چند دن بعد وہ مورو گورو ہماری مسجد میں آئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تصویر دیکھ کر کہنے لگے کہ یہی وہ بزرگ تھے جنہوں نے مجھے خواب میں نماز پڑھائی تھی۔چنانچہ اُسی وقت بیعت کر لی۔بیعت کے بعد اُن کو بڑی سختیاں جھیلنی پڑیں۔اور اُن کے والد نے اُن کو جائداد سے محروم کر دیا چھوٹا ساز میندارہ تھا اُس سے نکال دیا۔یہ سختیاں صرف پاکستان میں یا اور بعض جگہوں پر نہیں ہیں، بعض دفعہ افریقہ میں بھی سختیاں جھیلنی پڑتی ہیں۔بہر حال یہ دوسرے علاقے میں آگئے۔باپ