خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 278
278 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 جون 2011ء خطبات مسرور جلد نهم علاقوں میں اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت لوگوں پر ظاہر کر رہا ہے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہی ہیں جن کے ذریعے سے اس وقت کلمہ کی حقیقت دنیا پر واضح ہو رہی ہے۔نہیں تو آج کل کے علماء جو ہیں اُنہوں نے تو اسلام کو بد نام کر کے رکھ دیا ہے۔شخص پھر الجزائر کے ایک دوست عبد اللہ فاتح صاحب مشن ہاؤس آئے اور سوال جواب کی مجلس میں شامل ہوئے۔مجلس کے اختتام پر انہیں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب ”خطبہ الہامیہ “ اور الہدی مطالعہ کے لئے دی گئیں۔مطالعہ کے بعد آئے اور کہنے لگے کہ یہ تحریر کسی جھوٹے کی نہیں ہو سکتی اور اس کے ساتھ ایک کپڑے کو سر پر پگڑی کی طرح لپیٹا اور کہا کہ میں نے کچھ عرصہ قبل ایک شخص کو خواب میں دیکھا جس کا چہرہ انتہائی پر نور تھا اور اُس نے اپنے سر پر اس طرح سے کپڑا باندھا ہوا تھا۔تب انہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر دکھائی گئی مگر یہ نہ بتایا گیا کہ یہ کون ہیں۔وہ تصویر کو دیکھتے ہی کھڑے ہو گئے اور کہا کہ یہ وہی ہے جس کو میں نے خواب میں دیکھا ہے اور پھر بیعت کر کے جماعت میں داخل ہو گئے۔پھر فن لینڈ کے ایک عرب تھے۔کہتے ہیں تین سال قبل میرے والد بزرگوار فوت ہوئے۔اُن کی وفات سے چند ماہ بعد میں نے درج ذیل خواب دیکھا کہ میرے والد قبر میں سوئے پڑے ہیں۔یہ قبر اُٹھتی ہے اور اُس کے اندر سے ایک اور بزرگ نہایت باوقار ، پر نور مجتبہ پہنے ہوئے نکلتے ہیں۔اُن کی ریش مبارک سیاہ ہے۔چہرہ نہایت منور اور خیر و برکت کا عکاس ہے۔اُن کے سینے پر نام بھی لکھا تھا جو میں صحیح طرح یاد نہ رکھ سکا۔یہ بزرگ قبر سے نکلتے ہیں اور میر ا دایاں ہاتھ پکڑ کر مجھے قبر کی دوسری جانب لے جارہے ہیں۔میں اُن کے ساتھ ساتھ چلتا جاتا ہوں اور والد کی طرف دیکھ رہا ہوں۔کہتے ہیں خواب کے چھ ماہ بعد میں ڈش کا چینل ڈھونڈ رہا تھا کہ اچانک ایم۔ٹی۔اے۔آ گیا اور اُس میں حضرت خلیفہ المسیح الرابع اور علمی صاحب تھے۔کہتے ہیں کچھ دنوں کے بعد حضرت خلیفہ المسیح الرابع نے ایک بزرگ کی تصویر نکال کر اپنے پروگرام میں دکھائی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تھی۔تو کہتے ہیں جب تصویر میں نے دیکھی تو میں پہچان گیا کہ جس بزرگ کو میں نے خواب میں دیکھا تھا یہ وہی تھے۔سینیگال کے ایک احمدی ہیں، انہوں نے خواب میں آسمان پر دو بزرگوں کی تصویر دیکھی لیکن یہ سمجھ نہیں آتی تھی کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر کونسی ہے؟ اُن کے ذہن میں یہ خیال تھا کہ ایک تصویر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے اور ایک حضرت امام مہدی علیہ السلام کی۔پھر ایک تصویر غائب ہو جاتی ہے اور دوسری بالکل قریب آجاتی ہے۔یہ قریب آنے والی شکل کہتی ہے کہ امام مہدی میں ہوں۔اس خواب کو دیکھنے کے بعد عمر باہ صاحب (یہ سینیگال کے تھے ، ان کو یقین ہو گیا کہ امام مہدی آگئے ہیں۔چنانچہ مبلغ لکھتے ہیں وہاں جب ہمارا وفد تبلیغ کے دوران ان کے پاس پہنچا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر انہیں دکھائی تو انہوں نے کہا کہ بالکل یہی تصویر تھی جو مجھے خواب میں دکھائی گئی تھی۔اُس کے بعد انہوں نے بیعت کر لی۔شام کے ایک دوست ہیں، جب ان کا احمدیت سے تعارف ہوا تو تحقیق شروع کی۔ابتدا حضرت مسیح