خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 275
275 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 جون 2011ء خطبات مسرور جلد نهم سے تائید یافتہ آپ کی خلافت سے منسلک ہے۔آج بھی اللہ تعالیٰ نیک فطر توں کو آپ کی صداقت کے بارے میں رہنمائی فرماتا ہے ، فرما رہا ہے اور اس رہنمائی کی وجہ سے لوگ جماعت میں شامل ہوتے ہیں۔اور اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کہ آپ کے بعد آپ کی خلافت بھی برحق ہے، ان لوگوں کو رویائے صادقہ کے ذریعہ سے آپ کے ساتھ آپ کے خلفاء کو بھی دکھا دیتا ہے جس سے اُن کا ایمان اور تازہ ہو تا ہے۔اس وقت میں چند واقعات پیش کروں گا جو اُن لوگوں کے ہیں جو رڈیا کے ذریعے سے جماعت میں شامل ہوئے دنیا کے مختلف کونوں کے لوگ، دنیا کے مختلف ملکوں کے لوگ، مختلف رنگ کے لوگ، مختلف نسل کے لوگ۔گیمبیا کے ایک صاحب ہیں، وہاں کے Wellingara گاؤں کے ہیں، Modou Nijie صاحب۔اُن کا جماعت سے رابطہ 2003ء کے آخر پر ہمارے داعیان الی اللہ کے ذریعے سے ہوا۔اُس وقت وہ تیجانیہ (Tijaniyya) فرقہ ( یہ تیجانیہ فرقہ افریقہ میں بڑا عام ہے) سے گہری وابستگی رکھتے تھے۔لیکن انہیں دین کا کوئی شعور نہیں تھا۔بس جس طرح عام مسلمانوں میں طریق ہے ملا کے غلام تھے ، جو اُس نے کہہ دیا کر دیا، اسلام کا کچھ پتہ نہیں۔نشے کے بھی عادی تھے۔احمدیت قبول کرنے سے کچھ عرصہ پہلے وہ کہتے ہیں میں نے خواب دیکھی کہ ایک جنگل میں جھاڑیوں کی صفائی کر رہا ہوں اور خواب میں ہی شدید محنت و مشقت کے بعد بالآخر وہ جگہ صاف کرنے میں کامیاب ہو گئے۔اب وہ ایک صاف ستھری سفید اور چمکدار جگہ میں تھے۔پھر انہوں نے خواب میں خدا کے ایک بزرگ بر گزیدہ شخص کو دیکھا جو اپنے صحابہ کے ساتھ تھے۔دیکھا کہ یہ بزرگ انہیں اپنی طرف بلا رہے ہیں کہ اگر اپنی اصلاح مقصود ہے تو میری طرف آؤ۔تو یہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ خواب، اس طرح کی، اس سے ملتی جلتی، تقریباً یہی مضمون احمدیت قبول کرنے سے قبل تین دفعہ دیکھی اور پھر انشراح صدر کے ساتھ احمدیت میں شامل ہو گئے۔بیعت کرنے کے بعد انہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفاء کی تصاویر دکھائی گئیں تو ان تصاویر میں سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تصویر دیکھتے ہی وہ بول اُٹھے کہ یہی وہ خدا کے برگزیدہ بزرگ ہیں جو مجھے خواب میں اپنی طرف بلا رہے تھے۔احمدیت قبول کرنے کے بعد ان میں ایک انقلاب پیدا ہوا، ایک تبدیلی آئی۔پنجوقتہ نماز با جماعت کے عادی ہو گئے ، انہوں نے قرآنِ کریم پڑھنا سیکھا، دیگر تحریکات میں حصہ لینا شروع کیا اور پھر بڑی عمر کے ہونے کے باوجود قرآن کریم مکمل کرنے کے بعد بڑے شوق سے اپنی آمین بھی کروائی۔اس کے بعد اپنے بچوں اور دیگر احمدی بچوں کو قرآنِ کریم پڑھانا شروع کیا۔(اس بڑی عمر میں سیکھا بھی اور پھر آگے اس کو عام بھی کیا)۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ صاحب اب موصی ہیں، تہجد کی باقاعدگی سے ادا ئیگی کرنے والے ہیں۔ان کے رشتہ داروں نے بھی اس تبدیلی کو محسوس کیا۔ان کے عزیز کہتے ہیں کہ جب ہم ان کو دیکھتے ہیں تو ہمیں یقین نہیں آتا کہ یہ وہی شخص ہے جس میں یہ انقلاب بر پا ہوا۔برپاہو پھر گیمبیا کے ہی ایک استاد ہیں استاد عیسی جوف صاحب۔امیر صاحب نے ان کے بارے میں لکھا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ بہت چھوٹی عمر میں جب میں کیتھولک فرنچ سکول میں پڑھتا تھا اُس وقت میری عمر دس سال تھی جب