خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 254
254 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 مئی 2011ء خطبات مسرور جلد نهم ہونے کو تیار رہیں۔فرمایا اسی طرح وہ بد اعمالیاں جن میں لوگ سر سے پاؤں تک غرق ہیں اُن کے ہوتے ہوئے چند دن کی دعا کیا اثر دکھا سکتی ہے۔پھر مجب، خود بینی، تکبر اور ریا وغیرہ ایسے امراض لگے ہوئے ہوتے ہیں جو عمل کو ضائع کر دیتے ہیں۔نیک عمل کی مثال ایک پرند کی طرح ہے اگر صدق اور اخلاص کے قفس میں اُسے قید رکھو گے تو وہ رہے گا ورنہ پرواز کر جائے گا۔اور یہ بجز خدا تعالیٰ کے فضل کے حاصل نہیں ہو سکتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَمَنْ كَانَ يَرْجُوا لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَ لَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبَّةٍ أَحَدًا (الكهف:111)۔عمل صالح سے یہاں یہ مراد ہے کہ اس میں کسی قسم کی بدی کی آمیزش نہ ہو۔صلاحیت ہی صلاحیت ہو۔نہ مُحجب ہو، نہ کبر ہو،نہ نخوت ہو،نہ تکبر ہو ، نہ نفسانی اغراض کا حصہ ہو، نہ رُو بخلق ہو“۔( یعنی لوگوں کی طرف توجہ رہے کہ اُن سے اُمیدیں رکھیں) حتی کہ دوزخ اور بہشت کی خواہش بھی نہ ہو۔صرف خدا تعالیٰ کی محبت سے وہ عمل صادر ہو۔جب تک دوسری کسی قسم کی غرض کو دخل ہے تب تک ٹھو کر کھائے گا اور اس کا نام شرک ہے۔کیونکہ وہ دوستی اور محبت کس کام کی جس کی بنیاد صرف ایک پیالہ چائے یا دوسری خالی محبوبات تک ہی ہے۔ایسا انسان جس دن اُس میں فرق آتا دیکھے گا اُسی دن قطع تعلق کر دے گا۔جو لوگ خدا تعالیٰ سے اس لئے تعلق باندھتے ہیں کہ ہمیں مال ملے یا اولاد حاصل ہو یا ہم فلاں فلاں امور میں کامیاب ہو جاویں اُن کے تعلقات عارضی ہوتے ہیں اور ایمان بھی خطرہ میں ہے۔جس دن ان کے اغراض کو کوئی صدمہ پہنچا “۔( یعنی اپنی ذاتی خواہشات کو کوئی نقصان پہنچا، نہ پوری ہوئیں ) ”اُسی دن ایمان میں فرق آجائے گا۔اس لئے پکا مومن وہ ہے جو کسی سہارے پر خدا تعالیٰ کی عبادت نہیں کرتا“۔( خد اتعالیٰ کی عبادت اس لئے نہیں کرتا کہ یہ ہو گا تو تب میں عبادت کروں گا)۔( ملفوظات جلد نمبر 7 صفحہ 132-131۔مطبوعہ لندن، ایڈیشن 1984ء) ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 102-103) پھر 1904ء کے اگست میں لاہور کی ہی ایک مجلس ہے۔یہاں آپ فرماتے ہیں کہ : ” بہت ہیں کہ زبان سے تو خدا تعالیٰ کا اقرار کرتے ہیں لیکن اگر ٹول کر دیکھو تو معلوم ہو گا کہ اُن کے اندر دہریت ہے کیونکہ دنیا کے کاموں میں جب مصروف ہوتے ہیں تو خدا تعالیٰ کے قہر اور اُس کی عظمت کو بالکل بھول جاتے ہیں۔اس لئے یہ بات بہت ضروری ہے کہ تم لوگ دعا کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے معرفت طلب کرو۔بغیر اُس کے یقین کامل ہر گز حاصل نہیں ہو سکتا۔وہ اُس وقت حاصل ہو گا جبکہ یہ علم ہو کہ اللہ تعالیٰ سے قطع تعلق کرنے میں ایک موت ہے۔گناہ سے بچنے کے لئے جہاں دعا کرو وہاں ساتھ ہی تدابیر کے سلسلہ کو ہاتھ سے نہ چھوڑو“۔( گناہ سے بچنے کے لئے دعا کرو، ساتھ تدبیر بھی کرو۔) ” اور تمام محفلیں اور مجلسیں جن میں شامل ہونے سے گناہ کی تحریک ہوتی ہے ، اُن کو ترک کرو“۔( یہ نوجوانوں کے لئے خاص طور پر بڑا ضروری ہے کہ تمام محفلیں، مجلسیں، دنیاوی لغویات جن سے گناہ کی تحریک ہوتی ہے ، اُن کو ترک کریں)۔اور ساتھ ہی دعا بھی کرتے رہو۔اور خوب جان لو کہ ان آفات سے جو قضاو قدر کی طرف سے انسان کے ساتھ پیدا ہوتی ہیں، جبتک خدا تعالیٰ کی مد د ساتھ نہ ہو ہر گز رہائی نہیں ہوتی۔نماز جو کہ پانچ وقت ادا کی جاتی ہے اس میں بھی یہی اشارہ ہے کہ اگر وہ نفسانی جذبات اور خیالات سے اُسے محفوظ نہ رکھے گا