خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 253 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 253

253 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 مئی 2011ء خطبات مسرور جلد نهم طاقت ہے جس سے بڑے بڑے مشکل مقام حل ہو جاتے ہیں اور دشوار گزار منزلوں کو انسان بڑی آسانی سے طے کر لیتا ہے۔کیونکہ دعا اُس فیض اور قوت کے جذب کرنے والی ہے جو اللہ تعالیٰ سے آتا ہے۔جو شخص کثرت سے دعاؤں میں لگارہتا ہے وہ آخر اس فیض کو کھینچ لیتا ہے اور خدا تعالیٰ سے تائید یافتہ ہو کر اپنے مقاصد کو پالیتا ہے۔ہاں نری دعا خدا تعالیٰ کا منشاء نہیں ہے بلکہ اول تمام مساعی اور مجاہدات کو کام میں لائے“۔( پوری کوشش کرے) اور اُس کے ساتھ دعا سے کام لے۔اسباب سے کام لے۔اسباب سے کام نہ لینا اور نری دعا سے کام لینا، یہ آداب الدعا سے ناواقفی ہے۔اور خدا تعالیٰ کو آزمانا ہے۔اور نرے اسباب پر گر رہنا اور دعا کو لاشیء محض سمجھنا، یہ دہریت ہے۔یقینا سمجھو کہ دعا بڑی دولت ہے۔جو شخص دعا کو نہیں چھوڑتا اُس کے دین اور دنیا پر آفت نہ آئے گی۔وہ ایک ایسے قلعہ میں محفوظ ہے جس کے ارد گرد مسلح سپاہی ہر وقت حفاظت کرتے ہیں۔لیکن جو دعاؤں سے لا پروا ہے وہ اُس شخص کی طرح ہے جو خود بے ہتھیار ہے اور اس پر کمزور بھی ہے اور پھر ایسے جنگل میں ہے جو درندوں اور موذی جانوروں سے بھرا ہوا ہے۔وہ سمجھ سکتا ہے کہ اس کی خیر ہرگز نہیں ہے۔ایک لمحے میں وہ موذی جانوروں کا شکار ہو جائے گا۔اور اس کی ہڈی بوٹی نظر نہ آئے گی۔اس لئے یاد رکھو کہ انسان کی بڑی سعادت اور اُس کی حفاظت کا اصل ذریعہ ہی یہی دعا ہے۔یہی دعا اس کے لئے پناہ ہے اگر وہ ہر وقت اس میں لگارہے“۔( ملفوظات جلد نمبر 7 صفحہ 193-192۔مطبوعہ لندن، ایڈیشن 1984ء) ( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 148-149) پھر ایک مجلس میں جو لاہور میں ہی تھی آپ نے فرمایا کہ ”درستی اخلاق کے بعد دوسری بات یہ ہے کہ دعا کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کی پاک محبت حاصل کی جاوے“۔( اپنے اخلاق درست کرو۔اُس کے بعد دعا کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی پاک محبت حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ہر ایک قسم کے گناہ اور بدی سے دور رہے اور ایسی حالت میتر ہو کہ جس قدر اندرونی آلودگیاں ہیں اُن سب سے الگ ہو کر ایک مصفی قطرہ کی طرح بن جاوے۔جب تک یہ حالت میسر نہ ہو گی تب تک خطرہ ہی خطرہ ہے۔لیکن دعا کے ساتھ تدابیر کو نہ چھوڑے کیونکہ اللہ تعالیٰ تدبیر کو بھی پسند کرتا ہے اور اسی لئے فَالْمُدَ بِراتِ اَمْرًا (النازعات: 6) کہہ کر قرآن شریف میں قسم بھی کھائی ہے۔جب وہ اس مرحلہ کو طے کرنے کے لئے دعا بھی کرے گا اور تدبیر سے بھی اس طرح کام لے گا کہ جو مجلس اور صحبت اور تعلقات اُس کو حارج ہیں اُن سب کو ترک کر دے گا اور رسم، عادت اور بناوٹ سے الگ ہو کر دعا میں مصروف ہو گا تو ایک دن قبولیت کے آثار مشاہدہ کر لے گا۔یہ لوگوں کی غلطی ہے کہ وہ کچھ عرصہ دعا کر کے پھر رہ جاتے ہیں اور شکایت کرتے ہیں کہ ہم نے اس قدر دعا کی مگر قبول نہ ہوئی۔حالانکہ دعا کا حق تو اُن سے ادا ہی نہ ہوا تو قبول کیسے ہو؟۔اگر ایک شخص کو بھوک لگی ہو یا سخت پیاس ہو اور وہ صرف ایک دانہ یا ایک قطرہ لے کر شکایت کرے کہ مجھے سیری حاصل نہیں ہوئی تو کیا اس کی شکایت بجا ہو گی ؟ ہر گز نہیں۔جب تک وہ پوری مقدار کھانے اور پینے کی نہ لے گا تب تک کچھ فائدہ نہ ہو گا۔یہی حال دعا کا ہے۔اگر انسان لگ کر اُسے کرے اور پورے آداب سے بجالا دے۔وقت بھی میٹر آوے تو امید ہے کہ ایک دن اپنی مراد کو پالیوے۔لیکن راستہ میں ہی چھوڑ دینے سے صد با انسان مر گئے ( گمراہ ہو گئے) اور صدہا ابھی آئندہ مرنے کو تیار ہیں “۔(اگر رستے میں چھوڑ دیں گے تو گمراہ