خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 255 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 255

255 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 مئی 2011ء خطبات مسرور جلد نهم تب تک وہ سچی نماز ہر گز نہیں ہو گی۔نماز کے معنے ٹکریں مار لینے اور رسم اور عادت کے طور پر ادا کرنے کے ہر گز نہیں۔نماز وہ شئی ہے جس سے دل بھی محسوس کرے کہ روح پگھل کر خوفناک حالت میں آستانہ الوہیت پر گر پڑے۔جہاں تک طاقت ہے وہاں تک رقت کے پیدا کرنے کی کوشش کرے۔اور تضرع سے دعامانگے کہ شوخی اور گناہ جو اندر نفس میں ہیں وہ دور ہوں۔اسی قسم کی نماز بابرکت ہوتی ہے۔اور اگر وہ اس پر استقامت اختیار کرے گا تو دیکھے گا کہ رات کو یا دن کو ایک نور اس کے قلب پر گرا ہے اور نفس امارہ کی شوخی کم ہو گئی ہے۔جیسے اثر دہا میں ایک سم قاتل ہے، اسی طرح نفس امارہ بھی سم قاتل ہوتا ہے۔اور جس نے اُسے پیدا کیا اُسی کے پاس اُس کا علاج ہے“۔(یعنی خدا تعالیٰ نے بنایا ہے تو جتنے گناہ ہیں، جو نقصان دہ چیزیں ہیں، ان کا علاج بھی اللہ تعالیٰ سے مانگو لیکن خالص ہو کر ، خود کوشش کرتے ہوئے)۔فرمایا کہ: ( ملفوظات جلد نمبر 7 صفحہ 123۔مطبوعہ لندن۔ایڈیشن 1984ء) ( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 96) پھر 1904ء میں ایک مجلس میں جہاں نئے بیعت کرنے والے شامل تھے آپ نے نصیحت کرتے ہوئے دعا کے لئے انسان کو اپنے خیال اور دل کو ٹٹولنا چاہئے کہ آیا اُس کا میلان دنیا کی طرف ہے یا دین کی طرف؟ یعنی کثرت سے وہ دعائیں دنیاوی آسائش کے لئے ہیں یا دین کی خدمت کے لئے ؟۔“ ( یہ بڑی نوٹ کرنے والی چیز ہے۔یہ دیکھو تمہارا میلان کس طرف ہے۔دنیا کی طرف یا دین کی طرف ؟ اور اس کا معیار کیا بنایا۔فرمایا کہ یہ دیکھو تم جو دعائیں کرتے ہو اُن میں زیادہ تر دعائیں تمہاری دنیاوی آسائشوں کے لئے ہیں، دنیاوی ضروریات کے لئے ہیں یا دین کے لئے ہیں، یا دین کی خدمت کے لئے)۔پس اگر معلوم ہو کہ اُٹھتے بیٹھتے اور لیٹتے ہوئے اُسے دنیاوی افکار ہی لاحق ہیں اور دین مقصود نہیں تو اسے اپنی حالت پر رونا چاہئے“۔( اگر صرف دنیاوی فکریں ہی ہیں اور دین اس کا مقصد نہیں ہے تو فرمایا کہ اُسے اپنی حالت پر رونا چاہئے)۔”بہت دفعہ دیکھا گیا ہے کہ لوگ کمر باندھ کر حصولِ دنیا کے لئے مجاہدے اور ریاضتیں کرتے ہیں۔دعائیں بھی مانگتے ہیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ طرح طرح کے امراض لاحق ہو جاتے ہیں۔بعض مجنون ہو جاتے ہیں، لیکن سب کچھ دین کے لئے ہو تو خدا تعالیٰ اُن کو کبھی ضائع نہ کرے۔قول اور عمل کی مثال دانہ کی ہے۔اگر کسی کو ایک دانہ دیا جاوے اور وہ اُسے لے جا کر رکھ چھوڑے اور استعمال نہ کرے تو آخر ا سے پڑے پڑے گُھن لگ جاوے گا۔ایسے ہی اگر قول ہو اور اس پر عمل نہ ہو تو آہستہ آہستہ وہ قول بھی نہ رہے گا۔اس لئے اعمال کی طرف سبقت کرنی چاہئے“۔(یعنی اعمال کی طرف بڑھنے کی کوشش کرو۔ایک دانے کو اگاؤ گے تو اس میں سے پودا پھوٹ پڑے گا۔رکھ دو گے تو گھن لگ جائے گا)۔(ملفوظات جلد نمبر 7 صفحہ 117۔مطبوعہ لندن، ایڈیشن 1984ء)(ملفوظات جلد چہارم صفحہ 91) پھر جنوری 1908ء کی ایک مجلس میں گفتگو فرماتے ہوئے کہ حقیقی دعا کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ”دعا دو قسم ( کی) ہے۔ایک تو معمولی طور سے، دوم وہ جب انسان اُسے انتہا تک پہنچا دیتا ہے۔پس یہی دعا حقیقی معنوں میں دعا کہلاتی ہے۔انسان کو چاہئے کہ کسی مشکل پڑنے کے بغیر بھی دعا کرتارہے“۔( یہ ضروری نہیں ہے کہ جب