خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 19 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 19

خطبات مسرور جلد نهم 19 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 جنوری 2011ء کی عیادت کے لئے بنو حارث بن خزرج میں واقعہ بدر سے پہلے ( یعنی جنگ بدر سے پہلے) تشریف لے جارہے تھے تو ایک ایسی مجلس کے پاس سے گزرے جس میں عبد اللہ بن اُبی بن سلول بیٹھا ہوا تھا۔اس نے اس وقت اسلام قبول نہیں کیا تھا۔آنحضور صلی ا ہم نے دیکھا کہ اس مجلس میں مسلمان بھی بیٹھے ہیں ، بت پرست بھی ہیں اور یہودی بھی بیٹھے ہیں اور اسی مجلس میں عبد اللہ بن رواحہ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔جب اس مجلس پر گدھے کے پاؤں سے اٹھنے والی دھول پڑی تو عبد اللہ بن ابی بن سلول نے اپنی چادر سے ناک کو ڈھانک لیا۔پھر کہا ہم پر مٹی نہ ڈالو۔پھر رسول اللہ صلی علیکم نے ان سب لوگوں کو سلام کیا۔پھر رُک گئے اور اپنی سواری سے اترے اور ان کو دعوت الی اللہ کی۔اُن کو قرآن پڑھ کر سنایا۔اس پر عبد اللہ بن اُبی بن سلول نے کہا اے صاحب! جو بات تم کہہ رہے ہو ، وہ اچھی بات نہیں ہے اور اگر یہ حق بات بھی ہے تو ہمیں ہماری مجلس میں سنا کر تکلیف نہ دو۔اپنے گھر میں جاؤ اور جو شخص تمہارے پاس آئے اسے قرآن پڑھ کر سنانا۔عبد اللہ بن اُبی بن سلول کی یہ باتیں سن کر حضرت عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا۔کیوں نہیں یارسول اللہ ! آپ ہماری مجالس میں آکر قرآن سنایا کریں کیونکہ ہم قرآن کو سننا پسند کرتے ہیں۔یہ سننا تھا کہ مسلمان اور مشرک اور یہود سب اُٹھ کھڑے ہوئے اور اس طرح بحث میں الجھ گئے کہ لگتا تھا کہ ایک دوسرے کے گلے پکڑ لیں گے۔آنحضرت صلی للی کم ان کو مسلسل خاموش کرواتے رہے اور وہ چپ ہو گئے۔جب خاموش ہو گئے تو آپ اپنی سواری پر سوار ہوئے اور سعد بن عبادہ کے پاس پہنچے اور اس کو جا کر بتایا کہ ابو حباب یعنی عبد اللہ بن ابی بن سلول نے کیا کہا ہے ؟ اس نے یہ بات کی ہے۔تو سعد بن عبادہ نے عرض کی۔یارسول اللہ ! اس سے عفو اور درگزر کا سلوک فرمائیں۔اس ذات کی قسم جس نے آپ پر قرآن کریم جیسی عظیم کتاب نازل کی ہے۔اللہ تعالیٰ اس حق کو لے آیا جس کو اس نے آپ پر نازل فرمایا۔اس سر زمین کے لوگوں نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ عبد اللہ بن أبي بن سلول کو تاج پہنا کر اپنا بادشاہ بنائیں اور اس کے دست و بازو کو مضبوط کریں۔پھر جب اللہ تعالیٰ نے اُن کے اس فیصلے سے اس حق کے باعث جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عنایت فرمایا ہے انکار کر دیا تو اس سے اس کو بڑا دکھ پہنچا۔اس وجہ سے اس نے آپ سے یہ بد سلوکی کی ہے۔رسول اللہ صلیالی یکم نے اس سے عفو کا سلوک فرمایا۔(بخاری کتاب الاستيذان باب التسليم فى مجلس فيه اخلاط۔۔۔۔۔۔حديث: 6254) یہ اس وجہ سے نہیں فرمایا کہ سعد بن عبادہ نے بات کی تھی کہ عفو کا سلوک فرمائیں بلکہ آپ نے اس کو یہ بتانے کے لئے بات کی تھی کہ آج اس نے اس طرح میرے ساتھ یہ سلوک کیا ہے لیکن میں تو بہر حال عفو کا سلوک کرتا چلا جاؤں گا۔آگے پھر لکھا ہے کہ آپ اور آپ کے صحابہ مشرکوں اور اہل کتاب سے در گزر کا سلوک فرماتے تھے جیسا کرنے کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا۔اور وہ ان کی طرف سے ملنے والی تکالیف پر صبر کرتے تھے۔لیکن کچھ عرصہ بعد جب عبد اللہ بن ابی بن سلول بظاہر مسلمان ہوا تو اپنی منافقانہ چالوں سے آپ کو تکلیف پہنچانے کی ہمیشہ کوشش کرتا رہتا تھا۔ایک روایت میں آتا ہے۔جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک دفعہ وہ کسی غزوہ کے