خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 20 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 20

خطبات مسرور جلد نهم 20 20 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 جنوری 2011ء لئے گئے ہوئے تھے کہ مہاجرین میں سے ایک شخص نے ایک انصاری کی پشت پر ہاتھ مارا۔اس پر اس انصاری نے بآواز بلند کہا کہ اے انصار ! میری مدد کو آؤ اور مہاجر نے جب معاملہ بگڑتے ہوئے دیکھا تو اس نے بآواز بلند کہا کہ اے مہاجرو! میری مدد کو آؤ۔یہ آوازیں رسول اللہ صلی الی یکم نے سن لیں۔تو آپ نے دریافت فرمایا۔یہ کیا زمانہ جاہلیت کی سی آوازیں بلند ہو رہی ہیں؟ اس پر آنحضور صلی علم کو بتایا گیا کہ یارسول اللہ ! ایک مہاجر نے ایک انصاری کی پشت پر ہاتھ مار دیا تھا۔آنحضور صلی ایم نے فرمایا کہ ایسا کرنا چھوڑ دو۔یہ ایک بُری بات ہے۔بہر حال پانی پینے کے او پر یہ جھگڑا شروع ہو گیا تھا کہ میں پہلے پیوں گا، اُس نے کہا پہلے میں۔بعد میں یہ بات عبد اللہ بن اُبی بن سلول رئیس المنافقین نے سنی تو اس نے کہا مہاجرین نے ایسا کیا ہے؟ اللہ کی قسم اگر ہم مدینہ لوٹے تو مدینہ کا معزز ترین ص مدینہ کے ذلیل ترین شخص کو نکال باہر کرے گا( نعوذ باللہ)۔عبد اللہ بن ابی بن سلول کی یہ بات رسول اللہ صلی للی کم کو معلوم ہو گئی۔یہ سن کر حضرت عمر کھڑے ہوئے اور کہا یار سول اللہ ! مجھے اجازت دیں کہ میں اس منافق کا سر قلم کر دوں۔حضرت عمرؓ کی بات سن کر آنحضور صلی ا ہم نے فرمایا۔اس سے در گزر کرو۔کہیں لوگ یہ باتیں نہ کہنے لگ جائیں کہ محمد صلی ا ہم اپنے ساتھیوں کو بھی قتل کر دیتا ہے۔(بخاری کتاب التفسير سورة المنافقين - باب قوله سواء عليهم استغفرت لهم ام لم تستغفر لهم_حديث 4905) اس کے باوجود کہ اس کی ایسی حرکتیں تھیں، آنحضرت صلی اللہ کریم نے اس کو اپنا سا تھی کہا ہے۔کیونکہ جب تک وہ ظاہر ا اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر رہا تھا۔روایات میں یہ بھی ملتا ہے کہ آپ نے عبد اللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کو بلوا کر پوچھا کہ اس طرح مشہور ہوا ہے۔یہ کیا معاملہ ہے؟ وہ سب اس بات سے مکر گئے۔ان میں بعض انصار تھے انہوں نے بھی سفارش کی اور کہا کہ شاید زید کو جو چھوٹے تھے ، جنہوں نے یہ بتایا تھا کہ اُن کے سامنے یہ بات ہوئی ہے غلطی لگی ہو گی۔بہر حال آنحضرت صلی اللہ ﷺ نے ان لوگوں کو مزید کچھ نہیں پوچھا۔جب اللہ تعالیٰ نے بھی آپ کو وحی کے ذریعے بتادیا کہ یہ واقعہ سچ ہے تو سب دنیا کو ، اُس وقت کے لوگوں کو پتہ لگ گیا کہ بہر حال یہ سیچ ہے۔قرآنِ کریم میں اس کا ذکر یوں آتا ہے کہ يَقُولُونَ لَبِنْ رَّجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْاَعَةُ مِنْهَا الْأَذَلَ وَ لِلهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَكِنَّ الْمُنْفِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ (المنافقون: 9) ترجمہ اس کا یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم مدینہ کی طرف لوٹیں گے تو ضرور وہ جو سب سے زیادہ معزز ہے اسے جو سب سے زیادہ ذلیل ہے اس میں سے نکال باہر کرے گا۔حالانکہ عزت تمام تر اللہ اور اس کے رسول کی ہے اور مومنوں کی۔لیکن منافق لوگ جانتے نہیں۔اب اس وحی کے بعد آپ سے زیادہ کون جان سکتا تھا کہ عبد اللہ بن ابی ابن سلول جو ہے وہ جھوٹا اور منافق ہے۔بلکہ آپ کی فراست پہلے سے ہی یہ علم رکھتی تھی کہ یہ منافق ہے لیکن آپ نے صرف نظر فرمایا۔بلکہ مدینہ داخل ہونے سے پہلے جب عبد اللہ بن ابی کے بیٹے نے جو ایک مخلص مسلمان نوجوان تھا آپ کے سامنے عرض کی کہ یہ بات میں نے سنی ہے۔اور اگر آپ صلی ای کمی کا ارادہ ہے کہ اس کو قتل کرنا ہے تو مجھے حکم دیں کہ میں الله سة