خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 18 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 18

خطبات مسرور جلد نهم 18 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 14 جنوری 2011ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ”خدا کے مقربوں کو بڑی بڑی گالیاں دی گئیں۔بہت بری طرح ستایا گیا۔مگر ان کو آغرِضُ عَنِ الجهلِينَ (الاعراف: 200) کا ہی خطاب ہوا۔خود اس انسان کامل ہمارے نبی صلی ایم کو بہت بری طرح تکلیفیں دی گئیں اور گالیاں ، بد زبانی اور شوخیاں کی گئیں۔مگر اس خلق مجسم ذات نے اس کے مقابلہ میں کیا کیا؟ ان کے لئے دعا کی اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ کر لیا تھا کہ جاہلوں سے اعراض کرے گاتو تیری عزت اور جان کو ہم صحیح و سلامت رکھیں گے اور یہ بازاری آدمی اس پر حملہ نہ کر سکیں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ حضور (سی ایل) کے مخالف آپ کی عزت پر حرف نہ لا سکے اور خود ہی ذلیل و خوار ہو کر آپ کے قدموں پر گرے یا سامنے تباہ ہوئے۔“ رپورٹ جلسہ سالانہ 1897ء صفحہ 99) کہنے کو تو یہ ایک عام سی بات ہے لیکن مسلسل ظلموں سے خود بھی اور اپنے صحابہ کو بھی گزرتے ہوئے دیکھنا، اور پھر جب طاقت آتی ہے تو عفو کا ایک ایسا نمونہ دکھانا جس کی مثال جب سے کہ دنیا قائم ہوئی ہے ہمیں نظر نہیں آتی ، یہ آنحضرت ملا یار کا ہی خاصہ ہے۔پھر منافقین اور غیر تربیت یافتہ لوگوں کے مقابل پر آپ نے تحمل اور برداشت کا اظہار فرمایا۔یہ بھی کوئی معمولی چیز نہیں ہے۔اگر انصاف کی نظر سے دیکھنے والا کوئی تاریخ دان ہو تو باوجود مذہبی اختلاف کے یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ آپ کی برداشت اور عفو اور ہر خلق کا نمونہ بے مثال تھا۔اور لکھنے والے جنہوں نے لکھا ہے بعض ہندو بھی ہیں اور بعض عیسائی بھی۔بہر حال اس وقت میں چند واقعات بیان کر تاہوں جو آنحضرت صلی ال نیم کے عفو کے خلق عظیم پر کچھ روشنی ڈالتے ہیں۔پہلے میں عبد اللہ بن اُبی بن سلول کے واقعات لیتا ہوں، جو رئیس المنافقین تھا۔ظاہر میں گو آنحضرت صلی اللی کم کی اطاعت کو منظور کر لیا تھا لیکن آنحضرت علی ای کم کی ذات پر غلیظ حملے کرنے کا کوئی دقیقہ نہ چھوڑتا تھا۔مدینہ میں رہتے ہوئے مسلسل یہ واقعات ہوتے رہتے تھے۔اس کی دشمنی اصل میں تو اس لئے تھی کہ آنحضرت صلی علیکم کے مدینہ ہجرت سے پہلے مدینہ کے لوگ اسے اپنا سر دار بنانے کا سوچ رہے تھے لیکن آپ کی مدینہ آمد کے بعد جب آپ صلی اللہ ہم کو ہر قبیلے اور مذہب کی طرف سے سر براہ حکومت کے طور پر تسلیم کر لیا گیا تو یہ شخص ظاہر میں تو نہیں لیکن اندر سے ، دل سے آپ کئی ایم کے خلاف تھا اور اس کی مخالفت مزید بڑھتی گئی، اس کا کینہ اور رنجشیں مزید بڑھتی گئیں۔ایک روایت میں آپ صلی الی یکم کے مدینہ جانے کے بعد اور جنگ بدر سے پہلے کا ایک واقعہ ملتا ہے جس سے عبد اللہ بن اُبی بن سلول کے دل کے بغض اور کینے اور اس کے مقابلے پر آپ کے صبر کا اظہار ہوتا ہے۔اور یہ اظہار جو دراصل عفو تھا، یہ عفو اور آپ صلی یی کم کا رد عمل ظاہر ہوتا ہے۔بہر حال روایت میں آتا ہے۔امام زہری روایت کرتے ہیں کہ مجھے عروہ بن زبیر نے بتایا کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے مجھے بتایا کہ رسول اللہ صلی للہ یکم فرک کے علاقہ کی ایک چادر ڈال کر گدھے پر سوار ہوئے اور اپنے پیچھے اسامہ بن زید کو بٹھایا اور سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ