خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 240
240 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 مئی 2011ء خطبات مسرور جلد نهم قربانیاں کیں تو تب یہ کچھ حاصل ہوا۔یہ یقین اور ایمان تھا جس نے اُن میں یہ ایمانی مضبوطی پیدا کی کہ بیشک دنیاوی جاہ و حشمت اور طاقتیں ان لوگوں کے پاس ہیں، ان بادشاہوں کے پاس ہیں۔کثرت تعداد اُن کی ہے لیکن یہ ساری چیزیں ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ یہ ملنا ہے اور ہم نے کوشش کرنی ہے تو اللہ تعالیٰ ضرور ہماری مدد فرمائے گا۔پس ایک پیشگوئی تھی جو پوری ہوئی تھی اور ہوئی لیکن اُن کی یہ کوشش تھی کہ اگر ہمارے ہاتھ سے پوری ہو جائے تو ہم اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بن جائیں گے۔پس یہی حالت آج ہماری ہونی چاہئے۔ہمیں اس بات پر یقین ہونا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے وعدے یقینا پورے ہونے ہیں۔اگر ہم ان وعدوں کو پورا کرنے میں اپنی حقیر کو شش شامل کر لیں، اگر ہم اپنی ذمہ داری کی اہمیت کو سمجھنے والے بن جائیں تو ہم خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بن جائیں گے۔ہر احمدی کو ، ہر کارکن کو اس ذمہ داری کو سمجھنے اور اُس پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعض پیشگوئیاں بھی آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔بے شمار پیشگوئیاں ہیں جو واضح ہیں۔تذکرۃ الشہادتین میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ”اے تمام لو گوئن رکھو کہ یہ اُس کی پیشگوئی ہے جس نے زمین و آسمان بنایا “۔فرمایا ” یہ اُس کی پیشگوئی ہے جس نے زمین و آسمان بنایا۔وہ اپنی اس جماعت کو تمام ملکوں میں پھیلا دے گا۔اور حجت اور برہان کے رو سے سب پر ان کو غلبہ بخشے گا۔وہ دن آتے ہیں بلکہ قریب ہیں کہ دنیا میں صرف یہی ایک مذہب ہو گا جو عزت کے ساتھ یاد کیا جائے گا۔خدا اس مذہب اور اس سلسلہ میں نہایت درجہ اور فوق العادت برکت ڈالے گا اور ہر ایک کو جو اس کے معدوم کرنے کا فکر رکھتا ہے، نامر اور کھے گا۔اور یہ غلبہ ہمیشہ رہے گا یہاں تک کہ قیامت آجائے گی“۔( تذکرۃ الشہادتین روحانی خزائن جلد نمبر 20 صفحہ 66) پس یہ ہے یقین جس کا اظہار آپ نے کیا ہے اور اس یقین پر آپ قائم تھے۔یہ یقین اس لئے ہے کہ جب خدا تعالیٰ نے کہہ دیا کہ میں یہ کروں گا تو اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ضرور کرے گا۔اور اسلام کا غلبہ اب صرف جماعت احمدیہ کے ذریعے سے ہو گا اور یقینا انشاء اللہ ہو گا۔اور ہم دیکھتے ہیں کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے اس پیشگوئی کو پورا کیا اور پورا فرما تا چلا جارہا ہے۔1903ء کا یہ اقتباس ہے۔گو ہندوستان سے باہر اُس وقت جماعت کا تعارف ہو گیا تھا لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا تھا کہ جماعت پھیل رہی ہے۔لیکن آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے 198 ممالک میں جماعت کی نمائندگی موجود ہے اور دنیا کے تقریباً ہر ملک میں کسی نہ کسی رنگ میں جماعت کا تعارف پہنچ چکا ہے۔پس جس خدا نے دنیا میں احمدیت کے ذریعے اسلام کے پیغام کو پہنچایا ہے اور پہنچا رہا ہے وہ اس پیشگوئی کے اگلے حصے کو بھی پورا فرمائے گا۔کہیں مخالفین احمدیت، احمدیت کے پیغام پہنچانے میں وجہ بن رہے ہیں، اور اس مخالفت کی وجہ سے سعید روحوں میں احمدیت کی طرف توجہ پیدا ہو رہی ہے۔بظاہر تو وہ مخالفتیں کر رہے ہیں تاکہ لوگوں کو احمدیت سے دور ہٹائیں لیکن