خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 239
239 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 مئی 2011ء خطبات مسرور جلد نهم اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بے شمار جگہ پر اس غلبے کی بشارات دی ہوئی ہیں۔اور ہر دن جو جماعت پر چڑھتا ہے ہم ان بشارات کو پورا ہوتے دیکھتے ہیں۔جس شدت سے جماعت کی مخالفت کی جارہی ہے اگر یہ کسی انسان کا کام ہو تا تو ایک قدم بھی آگے بڑھنا تو دور کی بات ہے، ایک لمحہ بھی زندہ رہنا مشکل ہو تا۔لیکن اللہ تعالیٰ کے وعدے ہیں اس لئے تمام روکوں، تمام مخالفتوں کے باوجود جماعت ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو الہامات کے ذریعے اس ترقی کی بشارتیں دی تھیں جیسا کہ میں نے کہا۔ہمیں ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی بشارات بالکل حق ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کا مقدر یقینا غلبہ ہے لیکن جب اللہ تعالیٰ بشارتیں دیتا ہے تو مانے والوں پر بھی بعض ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، اُن پر بھی کچھ فرائض لا گو ہوتے ہیں جن کا ادا کر ناضروری ہے۔اب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ”میں تیری تبلیغ کو (تذکرہ صفحہ 260 ایڈ یشن چہارم مطبوعہ ربوہ) زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا“۔یقینا یہ کام خدا تعالیٰ ہی کر رہا ہے۔اور آج کل اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے ایم۔ٹی۔اے کو اس کا بہت بڑا ذریعہ بنایا ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ پیغام زمین کے کناروں تک پہنچے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا جو یہ پیغام ہے یہ زمین کے کناروں تک پہنچے اور ایم۔ٹی۔اے اس کا حق ادا کر رہا ہے۔لیکن اگر ہم ایم۔ٹی۔اے کی مشینیں لگا کر آرام سے بیٹھ جائیں، کوئی کام نہ کریں، پروگرام نہ بنیں، کسی قسم کی ریکارڈنگ نہ ہو ، جو مختلف تبلیغی پروگرام ہوتے ہیں وہ نہ ہوں تو جو ذریعہ اللہ تعالیٰ نے مہیا فرمایا ہے اس کا استعمال نہ کر کے ہم اپنے آپ کو اس سے محروم کر رہے ہوں گے اور اُس سے فائدہ نہیں اُٹھا رہے ہوں گے۔جو لٹریچر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مہیا فرمایا ہے اُس سے استفادہ کر کے اگر ہم آگے نہیں پہنچاتے ، اُس کو پھیلاتے نہیں تو ہم اپنے فرائض ادا نہیں کر رہے ہوں گے اور پھر گناہگار بن رہے ہوں گے۔گو اللہ تعالیٰ نے یہ کام تو کرنے ہیں۔ہمارے سے نہیں تو کسی اور ذریعے سے کروا دے گا۔لیکن ہم اگر ان ذرائع کو استعمال نہیں کرتے جو اللہ تعالیٰ نے مہیا فرمائے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ہم گناہگار ہیں۔دنیا میں کبھی یہ نہیں ہوا کہ نبی یا اس کی جماعت نے اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے بعد سب کام چھوڑ دیئے ہوں اور ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھ گئے ہوں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اور کون اللہ تعالیٰ کا پیارا ہو سکتا ہے ؟ لیکن جب آپ کو اللہ تعالیٰ نے قیصر و کسریٰ کی حکومتوں کے مغلوب ہونے کی بشارت دی تو آپ کے صحابہ کو کوشش بھی کرنی پڑی، قربانیاں بھی دینی پڑیں۔دشمنانِ اسلام نے مسلمانوں کو حقیر سمجھ کر اُن کو کچلنا چاہا تو دنیا کی نظر میں انہیں بظاہر حقیر لوگوں نے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے جو ایمان کی دولت سے مالا مال تھے ، جو توبہ استغفار کرنے والے تھے ، جو نمازوں کو اس خوبصورتی سے ادا کرنے والے تھے کہ اُن پر رشک آتا تھا، جو اللہ تعالیٰ کی عظمت دلوں میں بٹھائے ہوئے تھے، کوئی دنیاوی شان و شوکت اور بادشاہوں کی جاہ و حشمت اُن کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتی تھی۔انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس وعدے کو پورا کرنے کے لئے اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے قیصر و کسری کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیا۔اُن کی حکومتوں کو پاش پاش کر دیا۔محنت کی،