خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 241
241 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 مئی 2011ء خطبات مسرور جلد نهم جو سعید فطرت لوگ ہیں اُن میں اس سے توجہ پیدا ہو رہی ہے اور کہیں احمدیت کا محبت، پیار کا پیغام جو ہے وہ دنیا کی توجہ اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔کہیں ہمارے عاجزانہ اور نہایت معمولی خدمتِ خلق کے جو کام ہیں اُس سے لوگوں کی جماعت کی طرف توجہ پیدا ہو رہی ہے۔اور کہیں اللہ تعالیٰ رؤیا و کشوف کے ذریعے لوگوں کو احمدیت سے متعارف کروا رہا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دنیا پہچان رہی ہے۔پھر جو دلائل جماعت کے پاس ہیں، جو براہ راست اللہ تعالیٰ سے اطلاع پاکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں سکھائے ہیں، یہ دلائل اور براہین جب ایم۔ٹی۔اے کے ذریعے سے دنیاد یکھتی ہے تو ان کی توجہ ہوتی ہے۔دشمنانِ احمدیت بھر پور کوشش کرتے ہیں کہ لوگ ایم۔ٹی۔اے نہ دیکھیں۔بلا استثناء آج کل ہر اسلامی ملک میں مولوی اور نام نہاد علماء جو ہیں لوگوں کو یہ کہتے ہیں کہ ایم۔ٹی۔اسے نہ دیکھو۔اس سے تمہارے ایمان پر زد آئے گی۔تم ان کے کفر اور دجل سے نعوذ باللہ متاثر ہو جاؤ گے۔لیکن جن پر حق کھل گیا ہے وہ کہتے ہیں کہ اگر یہ غلط ہیں تو دلیل سے ان کو رڈ کرو۔زبر دستی منع کرنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ تمہارے پاس دلیل نہیں ہے اور اسلامی تعلیم ایسی نہیں کہ جو بغیر عقل اور دلیل کے بات کرے۔پس یہ ہے شان اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے پورا ہونے کی کہ آہستہ آہستہ دنیا کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کے ذریعے اللہ تعالی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں تلے لا رہا ہے ، توحید پر قائم کر رہا ہے۔پس ہر احمدی کا کام ہے کہ اپنی ذمہ داری کو سمجھے۔یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے اور پورا ہو جائے گا ہمیں کیا ضرورت ہے؟ جتنا بڑا وعدہ ہے، جتنی بڑی خوشخبریاں ہیں اُن میں حصہ دار بننے کے لئے ہماری بھی اتنی بڑی ذمہ داریاں ہیں۔حقوق اللہ کی ادائیگی میں ہمیں خالص ہو کر کوشش کرتے ہوئے حصہ لینا ہے۔حقوق العباد کی ادائیگی میں ہمیں تمام نفسانی خواہشات اور ترجیحات سے بچتے ہوئے حصہ لینا ہے۔دعوت الی اللہ کے لئے ہم نے اپنی طاقتوں ، اپنے علم ، اپنی کوششوں کو استعمال کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ حصہ لینا ہے، تبھی ہم اس عظیم مہم اور اُس کی عظیم برکات سے فائدہ اُٹھانے والے بن سکیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ ایک جگہ خوشخبری دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ لا تَيْتَسُوْا مِنْ خَزَائِنِ رَحْمَةِ رَبِّي، إِنَّا أَعْطَيْنَكَ الْكَوْثَر۔کہ اللہ کی رحمت کے خزانوں سے نا امید مت ہو، ہم نے تجھے خیر کثیر دیا ہے۔(تذکرۃ صفحہ نمبر 440 ایڈ یشن چہارم مطبوعہ ربوہ ) پس مسلمانوں کی حالت پر یا اسلام کی حالت پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جو بے چینی تھی اس کو ڈور فرماتے ہوئے یہ تسلی دی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے خزانوں سے ناامید مت ہو۔ہم نے خیر کثیر تجھے دے دیا ہے، تیرے لئے مقدر کر دیا ہے۔جو خیر کثیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ملا تھا وہ آخرین کو بھی تیرے ذریعہ سے مل رہا ہے اور ملے گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض کا چشمہ اب پھر تیرے ذریعہ سے جاری ہو گیا ہے۔پس خوش ہو اور خوشی سے اُچھلو کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے خزانوں نے پھر ایک نئی شان سے دروازے کھول دیئے