خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 206
خطبات مسرور جلد نهم 206 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 اپریل 2011ء پس یہاں اللہ تعالیٰ نے مومنوں والی اطاعت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ مؤمن کس طرح اطاعت کرتے ہیں۔چونکہ جب وہ سنتے ہیں تو وہ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا کہتے ہیں۔اسی کا اعلان کرتے ہیں کہ ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی۔ہماری مرضی کے خلاف بھی بات ہو یا ہمارے موافق بات ہو ، ہمارا فرض اطاعت کرنا ہے۔یہ ہے اعلیٰ درجہ کا معیار جو ایک مومن کا ہونا چاہئے اور یہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر تم مومن ہو تو بڑی بڑی قسمیں کھانے کی ضرورت نہیں ہے۔صرف اطاعت در معروف کرو۔جو دستور کے مطابق اطاعت ہے وہ کر و۔کھڑے ہو کر ہم عہد تو یہ کر رہے ہوں کہ جو بھی معروف فیصلہ فرمائیں گے اس کی پابندی کرنی ضروری سمجھیں گے لیکن جب فیصلے ہوں تو اس پر لیت و لعل سے کام لیں۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حقیقی مومن وہ ہے جو صرف قسمیں نہیں کھاتا بلکہ ہر حالت میں اطاعت کا اظہار کرتا ہے۔یہاں ایک بات کی وضاحت کر دوں، پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ یہاں طاعت در معروف ہے اور معروف فیصلے کی باتیں کی جاتی ہیں تو خلافت احمدیہ کی طرف سے کبھی خلاف احکام الہی کوئی بات نہیں کی جاتی۔اور معروف فیصلے کا مطلب یہی ہے کہ شریعت کے مطابق جو بھی باتیں ہوں گی، اس کی پابندی کی جائے گی۔اگر ہر احمدی اس یقین پر قائم ہے کہ خلافت کا سلسلہ خلافت علی منہاج نبوت ہے تو اس یقین پر بھی قائم ہونا ہو گا کہ کوئی غیر شرعی حکم خلافت سے ہمیں نہیں مل سکتا۔اسی طرح سے نظام جماعت بھی ہے۔جب وہ خلافت کے نظام کے تحت کام کر رہا ہے تو کوئی غیر شرعی حکم نہیں دے گا۔اور اگر کسی وجہ سے دے گا یا غلطی سے کوئی ایسا حکم آجاتا ہے تو خلیفہ وقت، جب وہ معاملہ اُس تک پہنچتا ہے ، اُس کی درستی کر دے گا۔پس جب خلافت کے استحکام کے لئے ایک احمدی دعا کرتا ہے تو ساتھ ہی اپنے لئے بھی یہ دعا کرے کہ میں اطاعت کا اعلیٰ ترین معیار قائم کرنے والا بنوں تا کہ اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ رہوں اور خلافت کے انعام سے نجڑار ہوں۔جس ہدایت پر قائم ہو گیا ہوں اُس سے خدا تعالیٰ کبھی محروم نہ رکھے۔بعض دفعہ بعض لوگ اپنے ذاتی مفادات کی وجہ سے نظام جماعت پر بد اعتمادی کا اظہار کر جاتے ہیں اور اُس انعام سے بھی محروم ہو جاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے چودہ سو سال بعد اب عطا فرمایا ہے۔مثلاً بعض قانونی مجبوریوں کی وجہ سے اگر قضائی نظام میں جو حقیقتاً جماعت کے اندر ایک نظام ہے جس کی حقیقت ثالثی نظام کی ہے ، اس میں جب یہ تحریر مانگی جاتی ہے اور اب نئے سرے سے کوئی تحریر لکھوائی جانے لگی ہے کہ اس ثالثی اور قضائی فیصلے کو میں خوشی سے ماننے کو تیار ہوں اور کوئی اعتراض نہیں ہو گا اور اس نظام میں میں خود اپنی خوشی سے اپنے معاملے کو لے کر جا رہا ہوں۔تو بعض لوگ یہ بدظنی کرتے ہوئے انکار کر دیتے ہیں کہ ہمارے جو فیصلے ہیں وہ ہمارے خلاف ہوں گے اس لئے ہم تحریر نہیں دیں گے۔تو ایسے لوگوں کی شروع سے ہی نیت نیک نہیں ہوتی۔وہ صرف لمبالٹکانا چاہتے ہیں کہ چلو یہاں سے کچھ عرصہ کسی معاملے کو ٹالو۔اُس کے بعد یہاں نہیں فیصلہ ہو گا تو حکومت کی عدالتوں میں لے جائیں گے۔اور پھر جب یہ لوگ یہاں سے انکار کر کے دنیاوی عدالتوں میں جاتے ہیں اور جب وہاں مرضی کے خلاف فیصلے ہو جاتے ہیں تو پھر قضا میں آنے کی کوشش کرتے ہیں۔ایسے لوگوں کے معاملات پھر جماعت نہیں