خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 207 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 207

207 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 اپریل 2011ء خطبات مسرور جلد نهم لیتی۔کیونکہ وہ پہلی دفعہ اطاعت سے باہر نکل گئے ہیں۔انہوں نے نظام جماعت پر اعتماد نہیں کیا۔اور نتیجہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی یہی فرماتا ہے کہ وہ اطاعت سے باہر ہیں اور پھر میرے نا پسندیدہ ہیں۔اور جب انسان اللہ تعالیٰ کا نا پسندیدہ ہو جائے تو چاہے وہ ظاہر میں جماعت کا ممبر بھی کہلاتا ہو، حقیقتا وہ جماعت کے اس فیض سے فیض نہیں پا سکتا جو خدا تعالیٰ افراد جماعت کو جماعت کی برکت سے پہنچاتا ہے۔پس بظاہر چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں لیکن ذاتی اناؤں اور بدظنیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے محروم کر دیتی ہیں۔پس ہر احمدی کو کوشش کرنی چاہئے کہ خد اتعالیٰ کا پسندیدہ بننے کی کوشش کرے کہ اسی میں ہماری اور ہماری نسلوں کی بقا ہے۔اس کے ساتھ ہی میں عہدیداران جماعت سے بھی یہ کہوں گا کہ وہ خلافت کے حقیقی نمائندے تبھی کہلا سکتے ہیں جب انصاف کے تقاضوں کو خدا کا خوف رکھتے ہوئے پورا کرنے والے ہوں۔کسی بھی عہدیدار کی وجہ سے کسی کو بھی ٹھو کر لگتی ہے تو وہ عہدیدار بھی اُس کا اُسی طرح قصور وار ہے کیونکہ اُس نے خدا تعالیٰ کی دی ہوئی امانت کا حق ادا نہیں کیا۔اگر اُس کی غلطی کی وجہ سے ٹھو کر لگ رہی ہے اور جان بوجھ کر کہیں ایسی صورت پیدا ہوئی ہے تو بہر حال وہ قصور وار ہے اور امانت کا حق ادا نہ کرنے والا ہے۔پس ہر احمدی کو چاہے وہ کسی بھی مقام پر ہو، ہمیشہ یہ سمجھنا چاہئے کہ میں نے اپنے عہد بیعت کو قائم رکھنے کے لئے، اپنے ایمان کو قائم رکھنے کے لئے ہر حالت میں صدق اور تقویٰ کا اظہار کرتے چلے جانا ہے تا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے مقصد کو پورا کرنے والا بن سکوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : ”میں کثرت جماعت سے کبھی خوش نہیں ہوتا“ (کہ صرف جماعت کی جو تعداد ہے یہ خوشی کی بات نہیں ہے) حقیقی جماعت کے معنے یہ نہیں ہیں کہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر صرف بیعت کر لی بلکہ جماعت حقیقی طور سے جماعت کہلانے کی تب مستحق ہو سکتی ہے کہ بیعت کی حقیقت پر کار بند ہو۔سچے طور سے ان میں ایک پاک تبدیلی پیدا ہو جاوے اور اُن کی زندگی گناہ کی آلائش سے بالکل صاف ہو جاوے۔نفسانی خواہشات اور شیطان کے پنجے سے نکل کر خدا تعالیٰ کی رضا میں محو ہو جاویں۔حق اللہ اور حق العباد کو فراخ دلی سے پورے اور کامل طور سے ادا کریں۔دین کے واسطے اور اشاعت دین کے لئے اُن میں ایک تڑپ پید اہو جاوے۔اپنی خواہشات اور ارادوں، آرزوؤں کو فنا کر کے خدا کے بن جاویں“۔فرمایا کہ متقی وہی ہیں کہ خدا تعالیٰ سے ڈر کر ایسی باتوں کو ترک کر دیتے ہیں جو منشاء الہی کے خلاف ہیں۔نفس اور خواہشات نفسانی کو اور دنیا وما فیہا کو اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں بیج سمجھیں“۔( ملفوظات جلد نمبر 5 صفحہ 455،454۔جدید ایڈیشن) اللہ تعالیٰ ہم سب کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خواہشات کے مطابق اپنی زندگیاں گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 13 مئی تا 19 مئی 2011ء جلد 18 شمارہ 19 صفحہ 5 تا 8)