خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 205 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 205

خطبات مسرور جلد نهم 205 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 اپریل 2011ء اپنے آقا کے حضور حاضر ہو گئے۔اور جب وہاں پہنچے تو پتہ چلا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس طرح نہیں فرمایا تھا کہ فوری آجائیں۔تار لکھنے والے نے تار میں لکھ دیا تھا کہ فوری پہنچیں۔لیکن کوئی شکوہ نہیں کہ اس طرح میں آیا، کیوں مجھے تنگ کیا بلکہ بڑی خوشی سے وہاں بیٹھے رہے۔(ماخوذ از حیات نور صفحہ نمبر 285) تو یہ اطاعت کا اعلیٰ درجے کا معیار ہے کہ ہر سوچ اور فکر ، حکم کے آگے بے حیثیت ہے۔اور پھر اللہ تعالیٰ کا بھی یہ سلوک ہے جیسا کہ میں نے کہا کہ ساتھ ساتھ انتظامات بھی فرما دیئے۔اور ایسے ہی لوگ ہیں جن کے بارہ میں اللہ تعالیٰ اپنی پسندیدگی کا اظہار فرماتا ہے۔پس یہ ہمارے لئے بھی اسوہ ہے۔پھر نظام جماعت ہے۔اس میں چھوٹے سے چھوٹے عہدیدار سے لے کر خلیفہ وقت تک کی اطاعت ہے۔اور اصل میں تو یہ تسلسل ہے اللہ تعالیٰ اور رسول کی اطاعت کا۔جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس نے میرے امیر کی اطاعت کی اُس نے میری اطاعت کی اور جس نے میری اطاعت کی اُس نے خدا تعالیٰ کی اطاعت کی۔(مسند احمد بن حنبل جلد 3صفحه 49 مسند ابى هريرة حديث نمبر 7330 عالم الكتب بيروت 1998) پس نظام جماعت کی اطاعت، اطاعت کے بنیادی درجے کے حصول کے لئے چھوٹی سے چھوٹی سطح پر بھی انتہائی ضروری ہے۔کسی بھی جماعت یا اگر دنیاوی لحاظ سے دیکھیں تو کسی دنیاوی تنظیم یا حکومت کو چلانے کے لئے بھی ایک نظام ہوتا ہے اور اُس کی ضرورت ہوتی ہے، اُس کے بغیر نظام چل نہیں سکتا۔دنیاوی حکومتوں میں بھی ہر درجے پر اُس کے نظام چلانے کے لئے کچھ قانون اور قواعد ہوتے ہیں اور اُن کی پابندی کرناضروری ہوتی ہے۔اور حکومتوں کے پاس چونکہ طاقت ہوتی ہے اس لئے وہ اپنے نظام کی پابندی اپنی اس طاقت اور اُن قوانین کے تحت کرواتی ہیں جو انہوں نے وضع کئے ہوتے ہیں۔لیکن ایک روحانی نظام میں اخلاص و وفا اور اللہ تعالیٰ کی رضا اطاعت کی بنیاد ہے۔اس لئے یہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہر درجے پر اطاعت کرنے والے میرے پسندیدہ ہیں۔پس نظام جماعت کے چھوٹے سے چھوٹے درجے سے لے کر اوپر تک جو نظام کی اطاعت کرتے ہیں وہ خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ سے جو خلافت کا وعدہ فرمایا ہے اور قرآنِ کریم میں مومنین کی جماعت سے جس خلافت کے جاری رہنے کا وعدہ فرمایا ہے اُس کی واحد مثال اس وقت جماعت احمدیہ میں ہے۔لیکن اس آیت سے پہلے جو آیت استخلاف کہلاتی ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے خلافت کا وعدہ فرمایا ہے، اس آیت سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ ایک جگہ یہ بھی فرماتا ہے کہ وَ اقْسَمُوا بِاللهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ لَبِنْ اَمَرْتَهُمْ لَيَخْرُجُنَّ قُلْ لَا تُقْسِمُوا طَاعَةُ مَعْرُوفَةٌ إِنَّ اللهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ (النور:54) اور انہوں نے اللہ کی پختہ قسمیں کھائیں کہ اگر تو انہیں حکم دے تو وہ ضرور نکل کھڑے ہوں گے۔تو کہہ دے کہ قسمیں نہ کھاؤ۔دستور کے مطابق اطاعت کرو۔یقینا اللہ جو تم کرتے ہو اس سے ہمیشہ باخبر رہتا ہے۔