خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 204 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 204

خطبات مسرور جلد نهم 204 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 اپریل 2011ء اتَّقَوْا وَ الَّذِينَ هُمْ مُحْسِنُونَ (النحل: 129 ) تقوی طہارت اور پاکیزگی اختیار کرنے والے خدا تعالی کی حمایت میں ہوتے ہیں اور وہ ہر وقت نافرمانی کرنے سے ترساں و لرزاں رہتے ہیں“۔( ڈرتے اور خوفزدہ رہتے ہیں۔) ( ملفوظات جلد نمبر 5 صفحہ نمبر 606۔جدید ایڈیشن) پس یہ ہر وقت صرف اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اور خوف ہے جو بندے کی حفاظت بھی کرتا ہے اور اُسے دنیاوی خوفوں سے بچا کر بھی رکھتا ہے۔پس ایک احمدی کو اگر کوئی خوف ہونا چاہئے تو خدا تعالیٰ کا کہ کہیں وہ ہم سے ناراض نہ ہو جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ ” : خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں اپنی جماعت کو اطلاع دوں کہ جو لوگ ایمان لائے ، ایسا ایمان جو اُس کے ساتھ دنیا کی ملونی نہیں اور وہ ایمان نفاق یا بز دلی سے آلودہ نہیں اور وہ ایمان اطاعت کے کسی درجہ سے محروم نہیں۔ایسے لوگ خدا کے پسندیدہ لوگ ہیں۔اور خدا فرماتا ہے کہ وہی ہیں جن کا قدم صدق کا قدم ہے“۔(رساله الوصیت روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 309) پس یہ ہے ایمان کا معیار جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہم میں دیکھنا چاہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ یہ معیار ہم اپنے اندر پیدا کرنے والے ہوں۔یہاں اطاعت کا بھی ذکر آیا تھا، اس وقت میں اطاعت کے حوالے سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ اطاعت کے کسی درجہ سے بھی محروم نہ ہو۔اطاعت کے مختلف درجے ہیں یا مختلف صورتیں ہیں جن پر ہمیں نظر رکھنی چاہئے۔اطاعت کے مختلف معیار ہیں۔نظام جماعت کی اطاعت ہے۔اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنا بھی اطاعت ہے۔اسی طرح اور بہت ساری چیزیں انسان سوچتا ہے اور ایک نظام میں سموئے جانے کے لئے اور نظام پر پوری طرح عمل کرنے کے لئے، اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار بننے کے لئے ایک اطاعت ہی ہے جس کی طرف نظر رہے تو اس کے قدم آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔مثلاً اطاعت کا معیار ہے۔اس کی ایک معراج جو ہے وہ ہمیں جماعت احمدیہ کی تاریخ میں حضرت خلیفہ المسیح الاول میں نظر آتی ہے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تار آئی کہ فوری آجاؤ تو آپ اپنے مطب میں ( اپنے کلینک میں بیٹھے تھے۔وہیں سے جلدی سے روانہ ہو گئے۔یہ بلاوا اسی شہر سے نہیں آرہا تھا کہ اُسی طرح اُٹھ کے چلے گئے۔بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دہلی میں تھے اور حضرت خلیفہ اول قادیان میں۔گھر والوں کو پیغام بھیج دیا کہ میں جارہا ہوں۔کوئی زادِ راہ ، کوئی خرچ ، کوئی کپڑے، کوئی سامان وغیرہ کی پیکنگ کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی۔سیدھے سٹیشن پر پہنچ گئے۔گاڑی کچھ لیٹ تھی تو ایک واقف شخص ملا۔امیر آدمی تھا۔اس نے اپنے مریض کو دکھانا چاہا اور درخواست کی۔گاڑی لیٹ ہونے کی وجہ سے آپ نے مریض کو دیکھ لیا۔اور اس مریض کو دیکھنے کی آپ کو جو فیس ملی، وہی آپ کا سفر کا خرچ بن گیا۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے آپ کا انتظام فرما دیا اور