خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 174
174 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 اپریل 2011ء خطبات مسرور جلد نهم كتب لا کر دیں تا کہ میں خود مقابلہ کر سکوں۔مقابلہ کرنے پر مجھے معلوم ہوا کہ بعض حوالے کو صحیح تھے مگر اکثر میں انہیں توڑ مروڑ کر اپنا مدعا ثابت کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔(اور یہی حال آج بھی ہے۔اب مخالفین نے ایک نئی مہم شروع کی ہوئی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب سے حوالے دیئے جاتے ہیں اور اُن کو توڑ مروڑ کر پھر اس سے اشتہار لگا کر یا پھر بڑے بڑے پوسٹر بنا کے یا جماعت کے خلاف کتابچہ شائع کر کے حضرت مسیح موعود کے خلاف دریدہ دہنی کی جاتی ہے اور ہمارا جو پروگرام ہے ”راہ ھدی اور اس کی اب ویب سائٹ بھی شروع ہو گئی ہے، اُس میں اس کے جواب آرہے ہیں، اور اصل حوالے اور اصل کتب کا حوالہ دیا جاتا ہے کہ جا کے دیکھیں تو خود پتہ لگ جائے۔اس سے بھی اب بعض ایسے لوگ جنہوں نے اس طرح جائزہ لینا شروع کیا تو اللہ کے فضل سے اس کے نتیجہ میں بیعتیں بھی ہو رہی ہیں۔تو یہ اعتراضات، یہ حربہ مولویوں کا ہمیشہ سے رہا ہے۔یہ آج کوئی نئی چیز نہیں ہے۔بعض دفعہ لوگ گھبرا جاتے ہیں۔اسی طرح جو ویب سائٹ شروع ہوئی ہیں، ان کے انچارج آصف صاحب ہیں۔وہ کہنے لگے کہ لوگوں نے بڑی بھر مار کر دی ہے اور ہمارے جواب اُس طرح نہیں جاسک رہے۔تو میں نے اُن کو یہی کہا تھا آپ کچھ دیر انتظار کریں یہ لوگ خود ہی جھاگ کی طرح بیٹھ جائیں گے۔اور یہی ہوا۔اُس میں اعتراضات کی جو بھرمار تھی ان پر جب ہماری طرف سے جوابات کی اس طرح ہی بھر مار ہوتی ہے تو آہستہ آہستہ خاموش ہو کے بیٹھ گئے۔بلکہ اب انہوں نے اپنے جو دوسرے سائٹس ہیں ان میں یہ پیغام دینا شروع کر دیا ہے کہ راہ ھدی کی جو ویب سائٹ ہے اس پر کوئی نہ جائے۔اس میں یہ ہمیں صحیح طرح access نہیں دیتے حالانکہ خود اُن کے پاس جو اب نہیں ہیں۔کیونکہ مایوس ہو چکے ہیں اس لئے دوسروں کو بھی روک رہے ہیں۔بہر حال ہمیشہ سے ہی یہ طریق رہا ہے) تو کہتے ہیں کہ میں نے جب کتابیں کھول کے یہ دیکھا، تو حوالے تو دیئے ہوئے تھے لیکن توڑ مروڑ کر اُن کو پیش کیا گیا تھا۔پھر آگے لکھتے ہیں کہ پیر مہر علی شاہ صاحب کے مقابلے میں تفسیر نویسی کے منظور نہ کرنے پر حضور نے انجاز المسیح رقم فرمائی اور اس میں چیلنج دیا کہ پیر صاحب اتنے عرصے کے اندر اندر اس کتاب کا جواب تحریر کریں۔پیر صاحب نے عربی میں تو کچھ نہ لکھا گو مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ انہوں نے اردو میں ایک کتاب لکھی تھی جو بعد میں سرقہ ثابت ہوئی ( وہ بھی چوری کی ثابت ہوئی۔کہتے ہیں بہر حال اس کشمکش میں میری طبیعت سلسلہ عالیہ احمدیہ کی جانب زیادہ مائل ہوتی گئی۔پھر میں نے خیال کیا کہ احادیث کا تو ایک بہت بڑا ذخیرہ ہے جس پر عبور (حاصل) کرنا مشکل ہے مگر احمدی احباب اکثر قرآن کریم کے حوالہ جات دیتے رہتے ہیں اس لئے بہتر ہو گا کہ قرآنِ کریم کا شروع سے آخر تک بنظر غائر مطالعہ کیا جائے۔چنانچہ گو میں عربی نہیں جانتا تھا مگر میں نے ایک اور دوست کے ساتھ مل کر قرآنِ کریم کا اردو ترجمہ پڑھا اور اس کے مطالعہ سے مجھے معلوم ہوا کہ قرآنِ کریم میں ایک دو نہیں، ہیں تیں نہیں بلکہ متعدد آیات ایسی ہیں جن سے وفات مسیح کا استدلال کیا جاسکتا۔پھر لکھتے ہیں کہ 1901ء کے شروع میں جب مردم شماری ہونے والی تھی حضور نے ایک اشتہار شائع فرمایا جس میں درج تھا کہ جو لوگ مجھ پر دل میں ایمان رکھتے ہیں گو ظاہر بیعت نہ کی ہو وہ اپنے آپ کو احمدی لکھوا ا ہے۔