خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 173 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 173

173 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 اپریل 2011ء خطبات مسرور جلد نهم موعود علیہ السلام کی خدمت میں درخواست کریں کہ پہلی تفسیروں کا زمانہ تو اب گزر گیا حضور اپنی مکمل تفسیر لکھیں۔چنانچہ میں نے حضور کی خدمت میں عرض کیا تو حضور نے فرمایا کہ حافظ صاحب !جو میرے رستے میں آیات قابلِ بیان اور قابلِ تفسیر آئی ہیں موجودہ زمانے کے لئے ، وہ میں نے لکھ دی ہیں۔اگر میں یا ہم مکمل تفسیر لکھیں تو ممکن ہے کہ آئندہ زمانے میں اور بہت سے معترض پیدا ہو جائیں۔تو اللہ تعالیٰ ان معترضین کے جواب کے لئے کوئی اور بندہ اپنی طرف سے کھڑا کر دے۔میں یہ جواب سن کر خاموش ہو گیا اور مستری نظام الدین صاحب بھی سن رہے تھے ، وہ بھی خاموش ہو گئے۔( انہوں نے فرمایا کہ آئندہ زمانے کے ساتھ ساتھ قرآنِ کریم کی تفسیریں آتی رہیں گی۔) (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ رجسٹر نمبر 4 روایت حضرت غلام رسول صاحب وزیر آبادی صفحہ نمبر 134 غیر مطبوعہ) پھر ایک روایت خان صاحب منشی برکت علی صاحب ولد محمد فاضل صاحب کی ہے۔یہ ڈائریکٹر جنرل انڈین میڈیکل سروس کے ملازم تھے۔یہ قادیان میں ناظر بیت المال بھی رہے ہیں۔1901ء میں انہوں نے بیعت کی تھی اور 1901ء میں ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت کی۔کہتے ہیں کہ جہاں تک مجھے یاد ہے ، سب سے پہلے مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر 1900ء کے شروع میں سننے کا اتفاق ہوا۔جبکہ اتفاقا مجھے شملہ میں چند احمدی احباب کے پڑوس میں رہنے کا موقع ملا۔اُن دوستوں سے قدرتی طور پر حضور کے دعویٰ مسیحیت اور وفاتِ مسیح ناصری کے متعلق سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہو گیا۔میں اگر چہ بڑی سختی سے اُن کی مخالفت کیا کرتا تھا۔مگر بیہودہ گوئی اور طعن و طنز سے ہمیشہ احتراز کرتا تھا۔( وفات مسیح پر میں یقین نہیں رکھتا تھا۔لیکن کہتے ہیں کہ اس کے باوجو د طعن اور طنز سے ہمیشہ احتراز کرتا تھا۔آج کل بلکہ ہمیشہ سے ہی مخالفین کا جو یہ طریقہ رہا ہے کہ گالم گلوچ پر آجاتے ہیں۔لیکن یہ نیک فطرت تھے ، کہتے ہیں میں طعن و طنز سے ہمیشہ احتراز کرتا تھا)۔آہستہ آہستہ مجھے خوش اعتقادی پیدا ہوتی گئی۔( آہستہ آہستہ مجھے بھی اس بات پر اعتقاد ہوتا گیا)۔حضور کا اُنہی دنوں میں پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی کے ساتھ بھی بحث و مباحثہ جاری تھا۔حضور نے اس بات پر زور دیا کہ مقابلہ میں قرآن شریف کی عربی تفسیر لکھی جاوے۔اور وہ اس طرح کہ بذریعہ قرعہ اندازی کوئی سورۃ لے لی جاوے اور فریقین ایک دوسرے کے بالمقابل بیٹھ کر عربی میں تفسیر لکھیں۔کیونکہ قرآن کریم کا دعوی ہے کہ لَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعه: 80) ایک کا ذب اور مفتری پر اس کے حقائق اور معارف نہیں کھل سکتے۔اس لئے اس طرح فریقین کا صدق و کذب ظاہر ہو سکتا ہے۔ان ہی ایام میں پیر صاحب کی طرف سے ایک اشتہار شائع ہوا جس میں حضرت مسیح موعود کی طرف چوہیں باتیں منسوب کر کے یہ استدلال کیا گیا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام (نعوذ باللہ ) ملحد اور اسلام سے خارج ہیں۔اس اشتہار میں اکثر جگہ حضور کی تصانیف سے اقتباسات نقل کئے گئے تھے۔(کہتے ہیں کہ) میں عموماً فریقین کے اشتہارات دیکھتا رہتا تھا۔( ابھی احمدی نہیں ہوا تھا لیکن فریقین کے دونوں طرف سے اشتہار دیکھتارہتا تھا)۔مذکورہ بالا اشتہار کے ملنے پر جو غیر احمدیوں نے مجھے دیا تھا میں نے احمدی احباب سے استدعا کی کہ وہ مجھے اصل