خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 175 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 175

خطبات مسرور جلد نهم 175 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 اپریل 2011ء سکتے ہیں۔اُس وقت مجھے اس قدر حسن ظن ہو گیا تھا کہ میں تھوڑا بہت چندہ بھی دینے لگ گیا تھا اور گو میں نے بیعت نہ کی تھی لیکن مردم شماری میں اپنے آپ کو احمدی لکھوا دیا۔مجھے خواب میں ایک روز حضور علیہ السلام کی زیارت ہوئی۔صبح قریباً چار بجے کا وقت تھا۔مجھے معلوم ہوا کہ حضور برابر والے کمرے میں احمدیوں کے پاس آئے ہوئے ہیں۔چنانچہ میں حضور سے شرف ملاقات حاصل کرنے کے لئے اس کمرے میں گیا اور جا کر السلام علیکم عرض کی۔حضور نے جواب دیاو علیکم السلام اور خواب میں فرمایا کہ برکت علی ! تم ہماری طرف کب آؤ گے؟ میں نے عرض کی حضرت! اب آہی جاؤں گا۔حضور اس وقت چار پائی پر تشریف فرما تھے۔جسم ننگا تھا ( اوپر سے ننگے تھے)۔سر کے بال لمبے تھے اور اُس وقت کے چند روز بعد میں نے تحریری بیعت کر لی۔یہ نظارہ مجھے اب تک ایسا ہی یاد ہے جیسا کہ بیداری میں ہوا ہو۔اس کے بعد جلسہ سالانہ کے موقع پر میں نے دارالامان میں حاضر ہو کر دستی بیعت بھی کر لی۔اُس وقت میں نے دیکھا کہ حضور کی شبیہ مبارک بالکل ویسی ہی تھی جیسی کہ میں نے خواب میں دیکھی تھی اور اُس سے کچھ عرصہ بعد اتفاقاً اس مہمان خانے میں اترا ہوا تھا جس میں اب حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے ابن حضرت مسیح موعود علیہ السلام سکونت پذیر ہیں۔میں ایک چارپائی پر بیٹھا تھا کہ سامنے چھت پر غالباً کسی ذرا اونچی جگہ پر حضور آکر تشریف فرما ہوئے۔نہا کر آئے تھے۔بال کھلے ہوئے تھے اور اوپر کا جسم نگا تھا۔یہ شکل خصوصیت سے مجھے ویسی ہی معلوم ہوئی جو میں خواب میں دیکھ چکا تھا اور مجھے مزید یقین ہو گیا کہ یہ خواب اللہ تعالیٰ نے میری ہدایت کے لئے مجھے دکھلائی ہے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ رجسٹر نمبر 4 روایت حضرت منشی برکت علی صاحب صفحہ نمبر 136 تا 139 غیر مطبوعہ) کہتے ہیں کہ ایک دفعہ مسجد مبارک سے حضور غالباً نماز ظہر سے فارغ ہو کر کھڑ کی کے راستے اندر تشریف لے جارہے تھے تو حسب دستور احباب نے آپ کو گھیر لیا۔کوئی ہاتھ چوما تھا، کوئی جسم اطہر کو ہاتھ لگا کر اسے منہ اور سینے پر ملتا تھا۔میں بھی اُن میں شامل تھا۔اتنے میں حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ المسیح الاول قریب سے گزرے، اور فرمانے لگے ، اخلاص چاہئے ، اخلاص“۔میرے دل نے گواہی دی کہ بیشک ظاہر داری کوئی چیز نہیں جب تک اس کے ساتھ اخلاص نہ ہو۔( صرف چومنا اور ہاتھ لگانا کوئی چیز نہیں جب تک اخلاص نہ ہو۔یہی حضرت خلیفہ المسیح الاول نے ان کو سبق دیا)۔چنانچہ اس وقت سے میں ہمیشہ اس کوشش میں رہا ہوں کہ خدا کے فضل سے اخلاص کے ساتھ تعلق قائم رہے۔لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ مسجد مبارک میں نماز ظہر کے بعد جبکہ حضور علیہ السلام مسجد میں تشریف فرما تھے کسی نے عرض کی کہ دو تین آریہ صاحبان ملاقات کی خواہش رکھتے ہیں۔حضور علیہ السلام نے انہیں اندر بلا لیا اور گفتگو شروع ہو گئی۔نجات کے متعلق ذکر آنے پر میں نے دیکھا کہ حضور کار عب اس قدر غالب تھا کہ آریہ دوست کھل کر بات بھی نہیں کر سکتے تھے۔یہاں تک کہ انہوں نے بیان کیا کہ نجات کے لئے ویدوں کا ماننا ضروری نہیں بلکہ جو اچھے کام کرے گا نجات پا جائے گا۔(ماخوذاز رجسٹر روایات صحابہ رجسٹر نمبر 4 روایت حضرت منشی برکت علی صاحب صفحہ نمبر 141،140 غیر مطبوعہ)