خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 172
خطبات مسرور جلد نهم 172 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 اپریل 2011ء فرمارہے ہیں اور میر اسینہ کھلتا گیا۔اُس دن سے آج تک اللہ تعالیٰ کے فضل سے کبھی کسی بحث میں یا تقریر میں کبھی نہیں جھوکا۔الحمد للہ علی ذالک۔میں اسی کا نتیجہ سمجھتا ہوں کہ جب میں نومبر 1933ء میں ہجرت کر کے آیا ہوں تو مجھے مسجد اقصیٰ کی امامت کی خدمت سپر دہوئی۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ رجسٹر نمبر 4 روایت حضرت غلام رسول صاحب وزیر آبادی صفحہ نمبر 129 تا 131 غیر مطبوعہ ) پھر یہ اپنا ایک واقعہ لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میں نے قادیان پہنچ کر اپنے مقدمات کا ذکر کیا کہ مخالفین نے جھوٹے مقدمات کر کے اور جھوٹی قسمیں کھا کھا کر میرا مکان چھین لیا ہے۔حضور نے فرمایا کہ حافظ صاحب! لوگ لڑکوں کی شادی اور ختنے پر مکان برباد کر دیتے ہیں، آپ کا مکان اگر خدا کے لئے گیا ہے تو جانے دیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو اور اس سے بہتر دے دے گا۔کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی قسم ! یہ پاک الفاظ سنتے ہی میرے دل سے وہ خیال ہی جاتا رہا کہ میر امکان چھن گیا ہے۔اور پھر کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو اس مقدس بستی قادیان میں جگہ دی اور مکان اس سے کئی درجے بہتر دے دیا۔بیوی بھی دی، اولاد بھی دی۔پھر لکھتے ہیں کہ اس ضمن میں ایک اور بات بھی یاد آئی ہے لکھ دیتا ہوں کہ شاید کوئی سعید فطرت فائدہ اٹھائے۔وہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد ایک دن مسجد مبارک میں خواجہ کمال الدین صاحب نے کہا مدرسہ احمدیہ میں جو لوگ پڑھتے ہیں وہ مُلاں بنیں گے۔وہ کیا کر سکتے ہیں؟( بڑے فخر سے خواجہ صاحب نے کہا کہ تبلیغ کرنا ہمارا ( یعنی خواجہ صاحب جیسے لوگوں کا کام ہے۔) پھر کہتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ مدرسہ احمدیہ اُٹھا دینا چاہئے ( یعنی ختم کر دینا چاہئے)۔لکھتے ہیں کہ اُس وقت حضرت محمود اولوالعزم( حضرت خلیفۃ المسیح الثانی مرزا محمود احمد ) بیٹھے تھے وہ کھڑے ہو گئے ( خلیفہ اول کے زمانے کی بات ہے ) اور اپنی اس اولوالعزمی کا اظہار فرمایا کہ اس سکول کو یعنی مدرسہ احمدیہ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قائم فرمایا ہے یہ جاری رہے گا اور انشاء اللہ اس میں علماء پیدا ہوں گے اور تبلیغ حق کریں گے۔یہ سنتے ہی خواجہ صاحب تو مبہوت ہو گئے اور میں اُس وقت یہ خیال کرتا تھا کہ خواجہ صاحب کو یقین ہو گیا ہے کہ ہم اپنے مطلب میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔اور دیکھنے والے اب جانتے ہیں کہ اسی سکول کے تعلیم یافتہ فضلاء دنیا میں تبلیغ احمدیت کر رہے ہیں۔جو کہتے تھے کہ مسیح موعود کا ذکر کرنا سم قاتل ہے انہی کے حق میں سم قاتل ثابت ہوا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ رجسٹر نمبر 4 روایت حضرت غلام رسول صاحب وزیر آبادی صفحہ نمبر 132 تا 133 غیر مطبوعہ) لکھتے ہیں کہ ایک دن کا ذکر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیر کو نکلے تو خاکسار اور چند آدمی بھی ساتھ تھے۔اُن میں سے ایک شخص مستری نظام الدین صاحب سابق سیکرٹری جماعت احمد یہ سیالکوٹ کے تھے جو ابھی تک بفضل خدا زندہ ہیں، انہوں نے مجھے کہا کہ حضرت صاحب آپ کے ساتھ بڑی شفقت سے پیش آتے ہیں اس لئے یہ عرض کریں کہ پہلی تفسیریں تو کچھ ساقط الاعتبار ہو گئی ہیں (پہلی تفسیریں اب خاموش ہیں، اتنی زیادہ واضح نہیں ہیں اور نئے زمانے کے لحاظ سے بھی نہیں ہیں) تو اب مکمل تفسیر قرآنِ کریم کی حضور لکھ دیں۔( حضرت مسیح