خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 667
خطبات مسرور جلد ہشتم 667 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 24 دسمبر 2010 اس موقع سے جیسا کہ میں نے کہا، جلسے میں شامل ہونے والے صرف پاکستانیوں کا ہی فرض نہیں بلکہ ہر ایک کو بھر پور فائدہ اٹھانا چاہئے جو وہاں شامل ہو رہے ہیں۔ماحول بھی میسر ہے تو اس ماحول سے بھر پور فائدہ اٹھائیں اور جیسا کہ میں نے کہا پاکستانی خاص طور پر اپنے حالات کی وجہ سے جو ان میں اضطراری کیفیت ہے اُس کو اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کریں۔اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں مضطر کی دعا سنتا ہوں۔پھر ایسے مضطر جو صرف اپنے لئے دعا نہیں کر رہے ہوتے بلکہ جماعت کے لئے دعا کر رہے ہیں اور دنیا میں حضرت محمد مصطفی صلی علیم کے دین کے قیام کے لئے دعا کر رہے ہوں ایسے مضطروں کی دعا تو اللہ تعالیٰ ضرور سنتا ہے۔اور پھر یہی نہیں بلکہ دنیا کی ہمدردی میں کسی بھی دین سے منسلک جو لوگ ہیں ان کو تباہی سے بچانے کے لئے بھی دعا کر رہے ہوں تو ایسے لوگوں کی دعا تو اللہ تعالیٰ ضرور سنتا ہے جن کو ہمدردی مخلوق بھی ہے ، ہمدردی انسانیت بھی ہے اور ہمدردی دین بھی ہے۔پھر اللہ تعالیٰ صرف یہی نہیں فرما رہا کہ میں تمہاری اضطراری کیفیت کی دعائیں قبول کر کے تمہاری تکلیفیں دور کر دوں گا۔تمہاری ذاتی اور جماعتی تکالیف کو ختم کر دیا جائے گا۔تمہیں تکلیفیں پہنچانے والوں کے ہاتھوں کو روک دیا جائے گا۔اللہ تعالیٰ تکلیف کا علاج صرف تکلیف دور کرنے سے نہیں فرما رہا بلکہ فرمایا کہ وَيَجْعَلُكُم خُلَفَاءَ الْأَرْضِ کہ تمہیں زمین کا وارث بنادے گا۔پہلے بھی بناتا آیا ہے اور آئندہ بھی اس کی یہی تقدیر ہے۔پس یہ تقدیر الہی ہے تو مایوسیوں کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ نہ صرف تکالیف دور ہو رہی ہیں بلکہ تمہیں تکلیفیں دور کرنے کے بعد زمین کا وارث بنایا جا رہا ہے۔پس اپنی بیچارگی کے رونے نہ روؤ۔یہ کل پر سوں کب آئے گی، اس کی باتیں نہ کرو۔اگر تمہاری عاجزی اور اضطرار سے کی گئی دعائیں جاری رہیں تو یہ کل پر سوں تو تمہاری تکلیفیں دور کرتے ہوئے آہی جائے گی اور نہ صرف تکلیفیں دور کرتے ہوئے آئے گی بلکہ مخالفین کو تمہارا زیر نگین کرتے ہوئے آئے گی۔انشاء اللہ تعالیٰ۔پس اُس معبود حقیقی کے حضور جھکتے ہوئے اُس کی عبادت کا حق ادا کرنے کی کوشش کریں۔ہر قسم کی مایوسیوں اور شرک ، چاہے وہ شرک خفی ہی کیوں نہ ہو، اُس سے اپنے آپ کو بچائیں، اپنی نسلوں کو بچائیں پھر اللہ تعالیٰ کے انعاموں سے ہم انشاء اللہ تعالیٰ فیض پاتے چلے جائیں گے۔پس کیا ہی پیارا ہمارا خدا ہے جو کہتا ہے کہ اگر تم صرف میری خالص عبادت کرنے والے ہو تو میں تمہاری اضطرار سے کی گئی دعاؤں کو تمہاری مانگنے سے زیادہ پھل لگا تا ہوں۔اس وہم میں بھی نہ رہو کہ پتہ نہیں ہمارا اضطرار اللہ تعالیٰ تک پہنچتا بھی ہے کہ نہیں؟ اللہ فرماتا ہے میں تو تمہارے بہت قریب ہوں۔جو میں نے آیت تلاوت کی اس میں یہی فرما رہا ہے۔اتنا قریب کہ جو خالص ہو کر ایک بندہ دعا کرتا ہے تو اس کی دعاؤں کا جواب بھی دیتا ہوں۔لیکن ایک شرط ہے کہ جو تم نے اضطرار سے دعائیں شروع کی ہیں اُن میں مستقل مزاجی رکھنا اور میرے احکامات پر عمل کرنا، میں جو باتیں کہتا ہوں ان پر لبیک کہنا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” دعا اور اس کی قبولیت کے زمانے کے درمیانی