خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 668 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 668

خطبات مسرور جلد ہشتم 668 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 دسمبر 2010 اوقات میں بسا اوقات ابتلاء پر ابتلاء آتے ہیں اور ایسے ایسے ابتلاء بھی آجاتے ہیں کہ کمر توڑ دیتے ہیں۔مگر مستقل مزاج، سعید الفطرت ان ابتلاؤں اور مشکلات میں بھی اپنے رب کی عنایتوں کی خوشبو سونگھتا ہے اور فراست کی نظر سے دیکھتا ہے کہ اس کے بعد نصرت آتی ہے“۔اب دیکھیں آپ فرماتے ہیں کہ خوشبو سونگھتا ہے۔ہم تو من حیث الجماعت ان مخالفتوں اور تکلیفوں کے باوجو د صرف خوشبو نہیں سونگھ رہے بلکہ اس کے پھل کھا رہے ہیں۔بے شک ہم اپنی ہر جانی قربانی اور شہادت پر افسوس کرتے ہیں، غمزدہ بھی ہوتے ہیں، دکھ بھی ہوتا ہے ، تکلیف بھی ہوتی ہے لیکن یہ شہادتیں، یہ قربانیاں اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول ہو کر جماعت کو پھلوں سے لا د ر ہی ہیں۔آپ نے فرمایا کہ : ” ان ابتلاؤں کے آنے میں ایک سر یہ بھی ہوتا ہے کہ دعا کے لئے جوش بڑھتا ہے کیونکہ جس جس قدر اضطرار اور اضطراب بڑھتا جاوے گا اُسی قدر روح میں گدازش ہوتی جائے گی۔اور یہ دعا کی قبولیت کے اسباب میں سے ہیں۔پس کبھی گھبرانا نہیں چاہئے اور بے صبری اور بے قراری سے اپنے اللہ پر بد ظن نہیں ہونا چاہئے۔یہ کبھی بھی خیال کرنا نہ چاہئے کہ میری دعا قبول نہ ہو گی یا نہیں ہوتی۔ایسا وہم اللہ تعالیٰ کی اس صفت سے انکار ہو جاتا ہے کہ وہ دعائیں قبول فرمانے والا ہے“۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 708-707) یعنی اگر یہ ہو گا کہ میری دعائیں قبول نہیں ہو تیں تو اس کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ کی ایک صفت سے آپ انکار کر رہے ہیں کہ وہ دعائیں قبول فرماتا ہے۔پس آج پاکستان کے احمدیوں سے زیادہ اس بات کو کون جان جا سکتا ہے یا ہندوستان کے بعض علاقوں کے وہ احمدی جن پر ظلم اور سختیاں ہو رہی ہیں یا دنیا کے بعض دوسرے ممالک کے احمدی جو سختیوں اور تکلیفوں سے گزر رہے ہیں، اُن سے زیادہ کون جان سکتا ہے کہ اضطرار یا اضطراب کیا ہوتا ہے ؟ پس جب اضطرار پیدا ہو جائے تو دعاؤں کی قبولیت کا وقت بھی قریب ہوتا ہے۔اس حوالے سے آج میں جلسے میں شامل ہونے والے تمام شاملین اور پاکستانی احمدیوں سے کہتا ہوں جن کو مسیح محمدی کی بستی میں جلسے میں شمولیت کا موقع مل رہا ہے کہ اپنے اضطرار اور اضطراب کو دعاؤں اور آنسوؤں میں ڈھالنے کی انتہا کر دیں اور پھر پہلے سے بڑھ کر اپنی زندگیوں کا مستقل حصہ بنا لیں تا کہ ایک حقیقی انقلاب لانے والے بن جائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک اور اقتباس پیش کرتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں:۔”دنیا میں کوئی نبی نہیں آیا جس نے دعا کی تعلیم نہیں دی۔یہ دعا ایک ایسی شے ہے جو عبودیت اور ربوبیت میں ایک رشتہ پیدا کرتی ہے“۔(بندے اور خدا میں ایک رشتہ پیدا کرتی ہے)۔اس راہ میں قدم رکھنا بھی مشکل ہے لیکن جو قدم رکھتا