خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 666 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 666

666 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 دسمبر 2010 خطبات مسرور جلد ہشتم گزاریں۔شاملین جلسہ تو خاص طور پر اپنے ہر لمحے کو دعاؤں میں گزاریں اور گزار سکتے ہیں کیونکہ ان کا شامل ہونے کا تو اور کوئی مقصد نہیں ہے اور نہ ہی انہیں کوئی اور کام ہے سوائے اس کے کہ روحانی فیض حاصل کریں، اپنی تربیت کے سامان کریں۔اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود کی بستی میں ایک روحانی ماحول کے تحت اتنی تعداد میں جمع کر کے ایک موقع پیدا کیا ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کرنے کا موقع مل رہا ہے۔اس سے اس کا فضل ما نگیں۔اس کے احسان کا شکر ادا کریں۔پاکستان سے شامل ہونے والے خاص طور پر پاکستان میں احمدیوں کے حالات اور ملک کے حالات کے بارے میں بھی دعائیں کریں۔یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ ہمیں یہ تسلی دلاتا ہے کہ ادعونی اَسْتَجِبْ لَكُمْ۔مجھے پکارو میں تمہاری دعاؤں کو سنوں گا۔اور جب ماحول میسر آجائے تو اس سے بہتر اور کون سا ایسا موقع ہے جب ایک عاجز بندہ اللہ تعالیٰ سے مانگے۔آج کل سب سے زیادہ اضطرار کی کیفیت پاکستان کے احمدیوں کی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں مضطر کی دعا سنتا ہوں۔پس ان دنوں میں اپنے اضطرار کو اللہ تعالیٰ کے حضور آنکھ کے پانی کے ذریعے بہائیں اور اللہ تعالیٰ کے وعدوں سے حصہ پانے والے بنیں۔اللہ فرماتا ہے کہ آمَنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ وَإِلَهُ فَعَ اللهِ قَلِيلًا مَا تَذَكَرُونَ (النمل: 63) یا پھر وہ کون ہے جو بے قرار کی دعا قبول کرتا ہے جب وہ اسے پکارے اور تکلیف دور کر دیتا ہے اور تمہیں زمین کا وارث بناتا ہے۔کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہی؟ بہت کم ہے جو تم نصیحت پکڑتے ہو۔اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ”دعا کے اندر قبولیت کا اثر اس وقت پیدا ہوتا ہے جب وہ انتہائی درجہ کے اضطرار تک پہنچ جاتی ہے۔جب انتہائی درجہ اضطرار کا پیدا ہو جاتا ہے اُس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی قبولیت کے آثار اور سامان بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔پہلے سامان آسمان پر کئے جاتے ہیں اُس کے بعد وہ زمین پر اثر دکھاتے ہیں۔یہ چھوٹی سی بات نہیں بلکہ ایک عظیم الشان حقیقت ہے۔بلکہ سچ تو یہ ہے کہ جس کو خدائی کا جلوہ دیکھنا ہو اسے چاہئے کہ دعا کرے“۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 618۔مطبوعہ ربوہ) پس اپنی دعاؤں کے اثرات کو زمین پر دیکھنے کے لئے پہلے آسمان کے کنگرے ہلانے ہوں گے۔آپ چند ہزار جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی محرومیاں دور کرنے اور ایک خاص ماحول سے فیض اٹھانے کے لئے جلسہ میں شمولیت کا موقع عطا فرمایا ہے اپنے اس اضطرار کو صحیح رخ دے کر اپنی ماڈی اور روحانی زندگی کے سامان کرنے کی کوشش کریں۔ڈیوٹی دینے والے بھی وہاں گئے ہوئے ہیں وہ صرف یہ نہ سمجھیں کہ اُن کا مقصد صرف ڈیوٹی دینا ہے۔بے شک یہ خدمت کریں لیکن چلتے پھرتے اُٹھتے بیٹھتے اپنی زبانوں کو ذکر الہی سے تر رکھیں۔اللہ تعالیٰ سب کو اس کی توفیق دے۔