خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 649
خطبات مسرور جلد ہشتم 649 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 دسمبر 2010 اپنے استاد مہر اللہ صاحب کے کہنے پر بیعت کر لی۔میں نے اور میرے بھائی رحمت اللہ صاحب نے قادیان میں آکر بیعت دستی کر لی تھی۔اور بھانبڑی سے ہمیشہ جمعہ قادیان میں آکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ ہم پڑھا کرتے تھے۔حضرت صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے دوست اگر تمہارے پاس آیا کریں تو ان کی خاطر تواضع کیا کرو۔ماسٹر عبد الرحمان صاحب بی اے بھانبڑی بھی ہمارے پاس جایا کرتے تھے اور مفتی فضل الرحمان صاحب بھی کبھی کبھی جایا کرتے تھے “۔کہتے ہیں کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زبانی اکثر دفعہ سنا ہے کہ حضور فرمایا کرتے تھے کہ ہمارا سلسلہ سچا ہے۔اس کو انشاء اللہ زوال نہ ہو گا۔جھوٹ تھوڑے دن رہتا ہے اور سچ سدار ہتا ہے۔کچھ زمیندار مہمان قادیان میں آگئے تھے۔گرمیوں کے دن تھے۔اس وقت صبح آٹھ بجے کا وقت ہو گا۔حضرت صاحب نے باورچی سے پوچھا۔کچھ کھانا ان کو کھلایا جائے۔باورچی نے کہا کہ حضور رات کی بچی ہوئی باسی روٹیاں ہیں۔حضور نے فرمایا۔کچھ حرج نہیں ہے لے آؤ۔چنانچہ باسی روٹیاں لائی گئیں۔حضور نے بھی کھائیں اور سب مہمانوں نے بھی کھالیں۔غالباً وہ مہمان قادیان سے واپس اپنے گاؤں اٹھوال کو جانے والے تھے۔حضور نے فرمایا کہ باسی کھالینا سنت ہے۔(ماخوذ از رجسٹر روایت صحابہ نمبر 4 صفحہ 106 روایت حضرت مستری اللہ دتہ صاحب غیر مطبوعہ ) حضرت میراں بخش صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ولد میاں شرف الدین صاحب درزی گوجرانوالہ آبادی چاہ روڈ محلہ احمد پورہ لکھتے ہیں کہ ”خاکسار نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت قریباً 1897ء یا 98ء میں کی۔مگر اپنے والد صاحب سے کچھ عرصہ تک اس امر کا اظہار نہ کیا۔آخر کب تک پوشیدہ رہ سکتا تھا۔بھید کھل گیا تو والد صاحب نے خاکسار کو صاف جواب دے کر گھر سے نکال دیا۔تو خاکسار نے خدا رازق پر توکل کر کے ایک الگ دوکان کرایہ پر لے لی۔تنگدستی تو تھی ہی مگر دل میں شوق تھا کہ جس طرح بھی ہو سکے بموجب حیثیت حضرت اقدس علیہ السلام کے لئے ایک پوشاک بنا کر اور اپنے ہاتھ سے سی کر حضور کی خدمت میں پیش کی جائے۔اسی خیال سے میں نے ایک کرتہ ململ کا اور ایک سلوار لٹھے کی اور ایک کوٹ صرف سیاہ رنگ کا اور ایک دستار ململ کی خرید کر اور اپنے ہاتھ سے سی کر پوشاک تیار کرلی اور قادیان شریف کا کرایہ ادھر ادھر سے پکڑ پکڑا کر قادیان شریف پہنچ گیا۔دوسرے روز جمعہ کا دن تھا۔اس لئے خیال تھا کہ اگر ہو سکے تو یہ ناچیز اور غریبانہ تحفہ آج ہی حضور کی خدمت بابرکت میں پہنچ جائے تو شاید حضور جمعہ کی نماز سے پہلے ہی اس کو پہن کر اس غریب کے دل کو خوش کر دیں۔غرض اسی سوچ بچار میں قاضی ضیاء الدین صاحب کی دوکان پر پہنچ گیا اور ان کے آگے اپنی دلی خواہش کا اظہار کر دیا۔وہ سنتے ہی کہنے لگے کہ چل میاں، میں تم کو حضور کی خدمت میں پہنچادیتا ہوں۔چنانچہ وہ اسی وقت اٹھ کر مجھے حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں لے گئے۔اس وقت حضور علیہ السلام ایک تخت پوش پر بیٹھے ہوئے