خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 650 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 650

خطبات مسرور جلد ہشتم 650 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 دسمبر 2010 کچھ لکھ رہے تھے۔اور خواجہ صاحب کمال الدین تخت پوش کے سامنے ایک چٹائی پر بیٹھے ہوئے تھے۔ہم دونوں بھی وہاں خواجہ صاحب کے پاس بیٹھ گئے۔خواجہ صاحب نے دریافت کیا کہ اس وقت کیسے آئے۔قاضی صاحب نے میری خواہش کا اظہار کر دیا۔خواجہ صاحب تھوڑی دیر خاموش رہ کر میری طرف مخاطب ہوئے اور کہا کیوں میاں ! میں ہی تمہاری وکالت کر دوں۔میں نے کہا یہ تو آپ کی بہت مہربانی ہو گی۔اس پر خواجہ صاحب نے مجھ سے وہ کپڑے لے کر حضور علیہ السلام کو پیش کر دیئے۔اور ساتھ ہی یہ عرض بھی کر دی کہ حضور اس لڑکے کی خواہش ہے کہ حضور ان کپڑوں کو پہن کر جمعہ کی نماز پڑھیں۔خواجہ صاحب کی یہ بات سن کر حضور نے کپڑے اٹھا کر پہننے شروع کر دیئے۔(مطلب یہ کہ فوری تو نہیں پہنے ہوں گے لیکن دیکھنے شروع کر دیئے) لیکن جب کوٹ پہنا تو وہ تنگ تھا۔تو میں نے عرض کی کہ حضور کوٹ بہت تنگ ہے۔اگر اس کو اتار دیں تو میں اس کو کچھ کھول دوں۔حضور نے کوٹ اتار کر مجھے دے دیا۔میں جلدی سے اٹھ کر بازار میں آیا اور ایک درزی کی دوکان پر بیٹھ کر تھوڑا سا کوٹ کو کھولا اور خدمت میں پیش کیا۔حضور نے کوٹ پہن لیا مگر ابھی بھی بٹن بند نہیں ہوتے تھے۔مگر حضور نے کھینچ تان کر بٹن لگالئے اور کچھ بھی خیال نہ کیا کہ یہ کپڑے حضور کے پہننے کے لائق بھی ہیں یا نہیں۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ نمبر 3 صفحہ 12 تا 14۔روایت حضرت میاں میر اں بخش صاحب۔غیر مطبوعہ ) حضرت ماسٹر خلیل الرحمن صاحب چھبر جو ریاست جموں کے مولوی نیک عالم صاحب کے بیٹے تھے ، لکھتے ہیں کہ 1929ء میں یہ پینشن حاصل کی اور قادیان آگیا۔1907ء کے جلسہ سالانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب مسجد اقصیٰ میں تشریف لائے تو تمام مسجد پر ہو گئی اور کوئی جگہ باقی نہ تھی۔حضور کے ساتھ ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب تھے۔اُن کی بغل میں جائے نماز تھی۔حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے حکم دیا کہ جو تیاں لوگوں کی ہٹا کر جائے نماز بچھا دی جاوے جس پر شمال کی طرف ڈاکٹر صاحب مذکور اور ان کے بائیں طرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضور کے بائیں طرف عاجز راقم نے نماز پڑھی۔الحمد للہ الحمد للہ۔اُس دن حضرت صاحب جبری اللہ مسیح موعود علیہ السلام کی تقریر سب تقریروں کے بعد تھی۔یعنی کم از کم پانچ گھنٹے بعد حضور کی تقریر ہوئی تھی۔پہلے مقررین کی تقریروں میں سے راقم نے کچھ نہیں سنا اور حضرت جری اللہ مسیح موعود الصلوۃ والسلام کی پاک صورت اور مبارک چہرے پر میری نظر تھی اور میں زار زار رورہا تھا۔غالباً اس کی وجہ اب مجھے یہ معلوم ہوتی ہے کہ میں نے زندگی میں اس کے بعد حضور انور کو نہیں دیکھنا تھا۔اس لئے اس روز را تم نے پانچ گھنٹہ حضور کے رُوئے مبارک کو ٹکٹکی باندھے دیکھا اور بخدا مجھے کسی کی تقریر کا کوئی حصہ یاد نہیں ہے اور اس عرصہ میں زار قطار رویا اور پر جوش محبت سے گریہ و بکا کیا۔الحمد للہ۔پھر اپنے وقت پر حضرت اقدس سٹیج پر تشریف لے گئے اور سورہ الحمد شریف کی نہایت ہی لطیف اور لذیذ و پر تاثیر تفسیر بیان فرمائی۔(ماخوذاز رجسٹر روایات صحابہ نمبر 4 صفحہ 125-126 روایت حضرت ماسٹر خلیل الرحمن صاحب غیر مطبوعہ )