خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 648 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 648

خطبات مسرور جلد ہشتم 648 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 17 دسمبر 2010 آگے کہتے ہیں کہ تھوڑی دیر کے بعد ظہر اور عصر کی نمازیں وہاں ادا کی گئیں اور اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ جو دوست بیعت کرنا چاہتے ہوں وہ آگے آجائیں۔اس پر کسی اور دوست نے بھی اونچی آواز میں اعلان کیا۔چنانچہ بہت سے دوست آگے ہوئے اور میں سب سے پیچھے رہ گیا۔حضور نے بیعت شروع کرنے سے قبل ارشاد فرمایا کہ جو دوست مجھ تک نہیں پہنچ سکتے وہ بیعت کرنے والوں کی کمر پر ہاتھ رکھ کر جو میں کہوں وہ الفاظ دہراتے جائیں۔کہتے ہیں کہ میں اس وقت بھی خاموش الگ سب سے پیچھے بیٹھا رہا کیو نکہ ارادہ نہیں تھا بیعت کرنے کا، اور ہاتھ بیعت کرنے والوں کی کمر پر نہیں رکھا۔جب حضرت صاحب نے بیعت شروع کی تو میر اہاتھ بغیر میرے ارادے کے آگے بڑھا اور جو صاحب میرے آگے بیٹھے ہوئے تھے ، میں نے ہاتھ اُن کی کمر پر رکھ دیا اور اُس کے ساتھ بیعت کے الفاظ دہرانے لگا۔اور پھر دوبارہ لکھتے ہیں کہ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میرا ہاتھ میرے ارادے سے آگے نہیں بڑھا بلکہ خود بخود آگے بڑھ گیا۔جب حضرت اقدس نے رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِی کی دعا کا ارشاد فرمایا۔سب نے اس کو دہرایا۔میں نے بھی دہرایا۔لیکن جب حضرت صاحب نے اس کے معنے اُردو میں فرمانے شروع کئے اور بیعت کنندوں کو دہرانے کا ارشاد فرمایا تو میں نے جس وقت وہ الفاظ دہرائے تو اپنے گناہوں کو یاد کر کے سخت رقت طاری ہو گئی۔اور یہاں تک کہ اس قدر زور سے میں چیچ کر رونے لگا کہ سب لوگ حیران ہو گئے اور میں روتے روتے بیہوش ہو گیا۔مجھ کو خبر ہی نہیں رہی کہ کیا ہو رہا ہے۔جب دیر ہو گئی تو حضرت اقدس نے فرمایا کہ پانی لاؤ۔وہ لایا گیا اور حضور نے اس پر کچھ پڑھ کر میرے اوپر چھڑ کا۔یہ مجھ کو خانصاحب سے معلوم ہو ا۔انہوں نے بعد میں بتایا۔ہاں اس قدر یاد ہے کہ حالتِ بیہوشی میں میں نے دیکھا کہ مختلف رنگوں کے نور کے ستون آسمان سے زمین تک ہیں۔اس کے بعد مجھ کو کسی دوست نے زمین سے اٹھایا۔میں بیٹھ گیا مگر میرے آنسو نہ تھمتے تھے۔اس قدر حالت متغیر ہو گئی کہ میرٹھ آکر بھی بار بار روتا تھا۔پھر خانصاحب موصوف نے میرے نام ”بدر“ و ریویو جاری کر دیا۔اور بدر میں حضرت اقدس کی وحی مقدس شائع ہوتی تھی۔اس سے بہت محبت ہو گئی۔اور ہر وقت یہ جی چاہتا تھا کہ تازہ وحی سب سے پہلے مجھ کو معلوم ہو جائے۔پھر جلسہ پر دارالامان جانے لگا اور بر ابر جاتارہا۔حضرت اقدس کو دعاؤں کے لئے خط لکھتا رہا۔اور ایک خط کا جواب حضرت اقدس نے اپنے دستِ مبارک سے دیا تھا۔وہ میرے پاس اب تک موجود تھا۔لیکن بعد میں کہیں گم گیا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ نمبر 3 صفحہ 63 تا 67۔روایت حضرت حامد حسین خان صاحب غیر مطبوعہ ) حضرت مستری اللہ دتہ ولد صدر دین صاحب رضی اللہ عنہ سکنہ بھانبڑی ضلع گورداسپور کہتے ہیں کہ 1894ء میں انہوں نے بیعت کی تھی اور 1894ء میں ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زیارت کی۔کہتے ہیں کہ ”میرے استاد کا نام مہر اللہ تھا۔میں نے اُن سے قرآن شریف سادہ پڑھا تھا۔وہ کہا کرتے تھے کہ امام مہدی ظاہر ہونے والا ہے اس کی بیعت کر لینا۔جب خبر سنائی دی کہ قادیان میں حضرت امام مہدی ظاہر ہو گئے تو میں نے