خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 647
خطبات مسرور جلد ہشتم 647 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 دسمبر 2010 اور اس طرح اور کتابیں تھیں۔کہتے ہیں وہ میں نے دیکھنی شروع کیں۔مولوی محمد احسن صاحب امر وہی خان صاحب کے ہاں تشریف لائے اور میرٹھ میں مناظرے کے طور پر گئے۔اُس وقت صرف ایک ہی مسئلہ زیر بحث تھا۔اور وہ وفات مسیح کا مسئلہ تھا۔مناظرہ وغیرہ تو میرٹھ کے شریر اور فسادی لوگوں کے باعث نہ ہوا۔لیکن مولوی محمد احسن صاحب مرحوم کی تقریر ضرور میں نے وفات مسیح کے متعلق سنی۔کہتے ہیں کہ میر ٹھ کی پبلک سے جو جھگڑ ا مناظرے کے متعلق ہوا اُس کے علیحدہ ایک رسالہ میں واقعات آگئے ہیں۔بہر حال اس کے بعد کہتے ہیں کہ مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ملنے کا شوق پیدا ہوا۔میں نے خان صاحب موصوف سے عرض کیا کہ اگر حضرت اقدس کہیں میرٹھ کے قریب قریب تشریف لائیں تو مجھے ضرور اطلاع دیں۔میں ایسے عظیم الشان کو دیکھنا چاہتا ہوں۔اگر نہ دیکھوں تو بڑی بدنصیبی ہو گی۔وہ کہتے ہیں اس وقت مجھے بیعت کا خیال تو نہیں تھا۔اس کے بعد 1904ء میں ایک بہت بڑا زلزلہ آیا جس کے متعلق یہ کہا گیا کہ یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئی کے مطابق آیا ہے۔اس کے بعد ایک دن خانصاحب موصوف نے مجھ سے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام دہلی تشریف لا رہے ہیں۔آپ بھی زیارت کے لئے چلیں۔کہتے ہیں میں نے آمادگی ظاہر کر دی اور پھر ہم دہلی چلے گئے۔دہلی میں حضرت اقدس کا قیام الف خان والی حویلی میں جو محلہ چنلی قبر میں واقع ہے وہاں تھا۔میں اور خانصاحب موصوف بذریعہ ریل دہلی پہنچے۔غالباً بارہ، ایک بجے کا وقت تھا۔حضرت اقدس مسیح موعود مکان کے اوپر کے حصہ میں تشریف رکھتے تھے اور نیچے دوسرے دوست ٹھہرے ہوئے تھے۔مکان میں داخل ہوتے ہوئے میری نظر مولوی محمد احسن صاحب پر پڑی۔چونکہ ان سے تعارف میر ٹھ کے قیام کے وقت سے ہو چکا تھا تو میں ان کے پاس بیٹھ کر باتیں کرنے لگا۔تھوڑی دیر میں غالباً خان صاحب نے جو اس بر آمدہ میں بیٹھے تھے جس کے اوپر کے حصہ میں حضرت اقدس کا قیام تھا مجھ کو اپنے پاس بلا لیا۔میں ایک چار پائی پر پائینتی کی طرف بیٹھ گیا اور باتیں کرنے لگا۔جہاں میں بیٹھا تھا ان کے قریب ہی زینہ تھا، سیڑھیاں تھیں گھر کے اوپر والے حصے میں جانے کی، تو کہتے ہیں کہ حضرت اقدس اوپر سے تشریف لے آئے۔سیڑھیوں کی طرف میری پشت تھی۔اور میں نے آتے ہوئے دیکھا نہیں۔حضور علیہ السلام نیچے تشریف لائے اور آہستگی سے آکر میرے برابر پلنگ کی پائینتی پر بیٹھ گئے۔میرے ساتھ ہی بڑی بے تکلفی سے بیٹھ گئے۔کہتے ہیں میں تو پہچانتا نہیں تھا۔جب حضور بیٹھ گئے تو اس وقت پہچاننے والا اور کوئی تھا نہیں۔تو کسی نے مجھے بتلایا کہ حضرت صاحب تشریف لے آئے۔اس وقت میں گھبر اکر وہاں سے اٹھنا چاہتا تھا کہ حضرت صاحب نے ارشاد فرمایا کہ یہیں بیٹھے رہیں۔یہ یاد نہیں کہ حضور نے مجھ کو بازو سے پکڑ کر بٹھا دیا یا صرف زبان سے ارشاد فرمایا۔حضرت صاحب کے تشریف لانے کے بعد تمام دوستوں کو جو مکان کے مختلف حصوں میں قیام پذیر تھے اطلاع ہو گئی اور مکان میں ایک ہلچل مچ گئی۔اس قدر یاد ہے کہ غالباً خانصاحب نے حضور کی خدمت میں عرض کیا کہ یہ میرٹھ سے آئے ہیں۔اور اتنے میں اور باتیں ہونے لگیں۔پھر