خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 639
خطبات مسرور جلد ہشتم 639 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 10 دسمبر 2010 دوسرا جنازہ ڈاکٹر الحاج ابو بکر گائی (BABUCARR GAYE) صاحب کا ہے۔یہ گیمبیا کے منسٹر آف ہیلتھ رہے ہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ڈاکٹر الحاج ابو بکر گائی صاحب ہیلتھ اینڈ سوشل ورک کے منسٹر رہے۔دود سمبر کو ان کی وفات ہوئی ہے۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔1940ء میں گیمبیا میں، بانجل میں پیدا ہوئے۔73ء میں ماسکو سے جنرل میڈیسن کی ڈگری حاصل کی۔ملک کے مختلف ہسپتالوں میں خدمات انجام دیتے رہے۔1999ء سے 2004ء تک نصرت جہاں سکیم کے تحت ہمارے احمد یہ مسلم ہسپتال تالنڈنگ میں بطور ڈاکٹر خدمات سر انجام دیں۔اس وقت یہ احمدی نہیں تھے۔2004ء میں انہوں نے بیعت کی توفیق پائی۔بڑے مخلص اور فدائی احمدی تھے۔بیعت کے فوراً بعد چندے کے نظام میں شامل ہوئے اور باقاعدگی سے بڑی بڑی رقمیں خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کیں۔پرائیویٹ کلینک سے بہت سی خواتین اور بچوں کا مفت علاج کیا کرتے تھے۔بہت ایکٹو (Active) داعی الی اللہ تھے۔بطور زعیم انصار اللہ بھی خدمات کی توفیق پائی۔تلاوت قرآن کریم اور تہجد کی ادائیگی میں بڑے با قاعدہ تھے اور اس بات کا ہمیشہ اور بر ملا اظہار کیا کرتے تھے کہ احمدی ہونے کے بعد معجزانہ طور پر روحانی تبدیلی ان کے اندر پیدا ہوئی ہے۔نظام خلافت سے بہت گہرا اور مثالی تعلق تھا۔اور خلفاء کے ساتھ بڑی عقیدت اور احترام تھا۔ان کی تصاویر بھی رکھی ہوئی تھیں۔2009ء میں آپ کا تقرر بطور منسٹر ہوا۔آپ کی وفات پر پارلیمنٹ کا اجلاس بھی ہوا جس میں تمام سرکاری افسران اور سپیکر نے ان کی سچائی اور وفاداری اور اخلاص اور قوم کا خادم ہونے اور محنتی ہونے اور سچے مسلمان ہونے کا ذکر کیا۔وائس پریذیڈنٹ نے امیر صاحب گیمبیا کو پارلیمنٹ کے اجلاس میں خطاب کے لئے بلایا اور ان کو دس منٹ کا وقت دیا کہ وہ بھی کچھ کہیں۔جماعت کے کسی بھی امیر کو پارلیمنٹ میں خطاب کا یہ پہلا موقع تھا۔آپ کی وفات پر آپ کی باڈی ہاؤس آف پارلیمنٹ رکھی گئی جہاں وائس پریذیڈنٹ، سپیکر آف دی ہاؤس نے اور وزراء نے اور ممبران پارلیمنٹ اور دوستوں نے آخری دیدار کیا اور سرکاری پروٹوکول کے ساتھ ان کی تدفین ہوئی۔ملک کے ٹی وی پر ان کی وفات کا اعلان نشر ہوا۔مرحوم کے خاندان کے ایک ممبر نے پارلیمنٹ کے اجلاس میں اپنے ایڈریس میں بر ملا اس بات کا اظہار کیا کہ مرحوم نہایت سچے اور مخلص احمدی مسلمان تھے جو ایک خدا پر اور اسلام کے پانچ ارکان پر ایمان رکھتے تھے اور حقیقی مسلمان تھے۔اور غرباء کا نہ صرف مفت علاج کرتے تھے بلکہ رقوم کے ذریعہ بھی مدد کرتے تھے۔گیمبیا میں وقتاً فوقتاً جماعت کے خلاف کچھ نہ کچھ وبال اُٹھتارہتا ہے۔یہ حکومت میں تھے تو اس لحاظ سے بہر حال کچھ نہ کچھ فائدہ بھی رہتا ہے۔اللہ کرے وہاں ان کے اللہ تعالیٰ اور نعم البدل پیدافرمائے جو سرکاری حلقوں میں بھی اثر رسوخ رکھنے والے ہوں اور نیک ، صالح اور خادم سلسلہ بھی ہوں۔تیسر اجنازہ مکرمہ عزت النساء صاحبہ اہلیہ مکرم ابو احمد بھوئیاں صاحب مرحوم بنگلہ دیش کا ہو گا جو ہمارے مربی سلسلہ، مبلغ سلسلہ اور بنگلہ ڈیسک کے انچارج مکرم فیروز عالم صاحب کی والدہ تھیں۔17 نومبر کو تقریباً