خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 640 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 640

640 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 دسمبر 2010 خطبات مسرور جلد ہشتم 85 سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی ہے۔۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا لَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔انہوں نے 1975ء میں احمدیت قبول کی اور پنجوقتہ نمازوں کی پابند، تہجد گزار اور دین العجائز رکھنے والی نیک مخلص خاتون تھیں۔عبادات کے سلسلے میں انہیں پاکیزگی کا اتنا خیال تھا کہ ہر نماز سے پہلے کپڑے بدل کر نماز ادا کیا کرتی تھیں۔ان کے گاؤں میں اکثر لوگ ناخواندہ ہیں۔گاؤں میں رہنے والی تھیں لیکن انہوں نے اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کا بہت خیال رکھا۔ایسی غریب پرور تھیں کہ اپنی غربت کے باوجود اپنے خاندان کے دوسرے غریبوں کا بہت خیال رکھتی تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلافتِ احمدیہ سے والہانہ محبت رکھتی تھیں۔مخالفین جب بھی ان کے سامنے جماعت کے خلاف بات کرتے تو وہ اُن کو یہی جواب دیتیں کہ تمہیں نہیں معلوم کہ تم کس نعمت کا انکار کر رہے ہو؟ مرحومہ موصیہ تھیں۔تین بیٹے اور پانچ بیٹیاں ان کی یاد گار ہیں۔جیسا کہ میں نے کہا، فیروز عالم صاحب ان کے ایک بیٹے ہیں جو یہیں لندن میں ہیں۔اللہ تعالیٰ مرحومہ کے درجات بلند فرمائے اور سب کے پسماندگان کو صبر کی توفیق عطا فرمائے۔(نماز جمعہ و عصر کے بعد حضور ایدہ اللہ نے ان مرحومین کی نماز جنازہ غائب پڑھائی)۔الفضل انٹر نیشنل جلد 17 شمارہ 53 مورخہ 31 دسمبر 2010 تا 6 جنوری 2011 صفحہ 5 تا 8)