خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 638 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 638

638 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 دسمبر 2010 خطبات مسرور جلد ہشتم اس معصوم کی ہدایت کے اقتداء کرنے والے ہیں جو اس کو ملی تھی۔تباہ ہو گیاوہ دل جو اس کا دشمن ہے اور کامیاب ہو گیا وہ دل جو عملی رنگ میں اس کی محبت ظاہر کرتا ہے اور اس کے ایمان اور اخلاق اور شجاعت اور تقویٰ اور استقامت اور محبت الہی کے تمام نقوش انعکاسی طور پر کامل پیروی کے ساتھ اپنے اندر لیتا ہے جیسا کہ ایک صاف آئینہ میں ایک خوب صورت انسان کا نقش۔یہ لوگ دُنیا کی آنکھوں سے پوشیدہ ہیں۔کون جانتا ہے ان کا قدر مگر وہی جو اُن میں سے ہیں۔دُنیا کی آنکھ وہ شناخت نہیں کر سکتی کیونکہ وہ دُنیا سے بہت دُور ہیں۔یہی وجہ حسین کی شہادت کی تھی کیونکہ وہ شناخت نہیں کیا گیا۔دنیا نے کس پاک اور برگزیدہ سے اس کے زمانہ میں محبت کی تا حسین سے بھی محبت کی جاتی۔غرض یہ امر نہایت درجہ کی شقاوت اور بے ایمانی میں داخل ہے کہ حسین رضی اللہ عنہ کی تحقیر کی جائے اور جو شخص حسین یا کسی اور بزرگ کی جو آئمہ مطہرین میں سے ہے تحقیر کرتا ہے یا کوئی کلمہ استخفاف کا اس کی نسبت اپنی زبان پر لاتا ہے وہ اپنے ایمان کو ضائع کرتا ہے کیونکہ اللہ جلشانہ اس شخص کا دشمن ہو جاتا ہے جو اس کے برگزیدوں اور پیاروں کا دشمن ہے“۔( مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 453-454 اشتہار نمبر 270 مطبوعہ ربوہ) اللہ تعالیٰ ہمیں آنحضرت صلی علیہ ظلم اور آپ کی آل کی محبت کی ہمیشہ توفیق عطا فرما تار ہے۔ہمیشہ درود بھیجنے کی توفیق عطا فرما تار ہے۔اور یہ بھی دعا کریں کہ پاکستان اور دنیا کے وہ ممالک جہاں اللہ اور رسول کے نام پر ظلم کئے جاتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں بھی ختم فرمائے۔اور اس مہینے میں خاص طور پر پاکستان میں بھی اور بعض اور جگہوں پر شیعوں اور سنیوں اور دوسرے فرقوں کے جو فساد ہوتے ہیں، ایک دوسرے کو قتل و غارت کیا جاتا ہے، جلوسوں پر دہشت گردی کے حملے کئے جاتے ہیں اللہ تعالیٰ اُن سے بھی محفوظ رکھے۔اور یہ مہینہ تمام مسلمان ملکوں اور تمام مسلمانوں کے لئے امن کا، خیریت کا مہینہ ثابت ہو۔اور حضرت امام حسین کی شہادت کا جو مقصد تھا اُس کو یہ لوگ سمجھنے والے ہوں اور اس زمانے کے امام کو ماننے والے اور اس کی تصدیق کرنے والے بھی بنیں۔آج میں دو افریقن بھائیوں اور ایک بنگالی خاتون کا نمازوں کے بعد جنازہ بھی پڑھاؤں گا۔جن کا تعارف یہ ہے۔زمبابوے کے ایک ہمارے افریقن دوست تھے مہدی ٹپانی صاحب۔نیشنل سیکرٹری تبلیغ تھے۔15 نومبر کو ان کی وفات ہوئی۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔ایک لمبے عرصے سے نیشنل سیکرٹری تبلیغ تھے۔1990ء میں بیعت کر کے احمدیت میں شمولیت کی توفیق پائی اور اس کے بعد سے ہمیشہ جماعتی خدمات میں پیش پیش تھے۔انہوں نے وہاں مسجد کی زمین خرید نے اور آفس بلاک کی تعمیر میں مدد کی۔ان کی اہلیہ کے علاوہ پانچ لڑکے اور دولڑکیاں ہیں۔اور اللہ کے فضل سے سب شادی شدہ ہیں۔اور اللہ کے فضل سے سب احمدی ہیں۔بچے بھی ساتھ ہی احمدی ہیں۔ان کے ایک بیٹے حسین ٹپانی صاحب زمبابوے کے صدر خدام الاحمدیہ ہیں اور جنرل سیکرٹری بھی ہیں۔ان کی بہو وہاں صدر لجنہ اماءاللہ ہیں۔انہتر سال مرحوم کی عمر تھی۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے۔