خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 615 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 615

خطبات مسرور جلد ہشتم 615 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 نومبر 2010 موعود کے حق میں ہو گیا تو پھر لجاجت سے یہ خط لکھا کہ بھائی ہو کر اس قرقی کے ذریعے ہمیں کیوں ذلیل کرتے ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ان حالات کا علم ہوا تو آپ وکیل پر سخت ناراض ہوئے کہ میں نے کب کہا تھا کہ یہ مقدمہ کرو؟ فوراً یہ واپس لیا جائے اور ان کو جواب بھیجا کہ آپ بالکل مطمئن رہیں۔کوئی قرقی وغیرہ نہیں ہو گی۔یہ ساری کارروائی میرے علم کے بغیر ہوئی ہے۔(ماخوذ از سیرت طیبه از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے صفحہ 60-59- مطبع ضیاء الاسلام پریس ربوہ ) حضرت خلیفتہ المسیح الثانی اس روایت کے بارہ میں لکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود کو عشاء کے وقت اللہ تعالیٰ نے بذریعہ الہام یا خواب یہ اطلاع دی تھی کہ یہ بار ان پر بہت زیادہ ہے اور اس کی وجہ سے مخالف رشتہ دار بہت تکلیف میں ہیں ( اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ اطلاع دی کہ عدالت کا فرقی کا، جائیداد بیچنے کا جو حکم ہوا یہ ان پر بہت زیادہ بار ہے اور اس کی وجہ سے رشتے دار تکلیف میں ہیں)۔حضرت مسیح موعود فرماتے تھے کہ مجھے رات نیند نہیں آئے گی۔اسی وجہ سے فوراً آدمی بھیجا کہ جو ان کو جاکر بتادے کہ تمہیں سارا خرچ معاف ہے کوئی قرقی وغیرہ نہیں ہو گی۔(ماخوذ از تاریخ احمدیت جلد دوم صفحہ 81۔مطبوعہ ربوہ) حضرت مرزا بشیر احمد صاحب تحریر فرماتے ہیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کے زمانے میں خصوصاً ابتدائی ایام میں قادیان کے لوگوں کی طرف سے جماعت کو سخت تکلیف دی جاتی تھی۔مرزا المام دین صاحب ( جن کا پہلے ذکر ہو چکا ہے) اور مرزا نظام دین صاحب وغیرہ کی انگیخت سے قادیان کی پبلک خصوصا سکھ ایذاء رسانی پر تلے ہوئے تھے۔وہ لوگ ان لوگوں کو ، سکھوں کو بھڑکاتے تھے اور وہ خاص طور پر احمدیوں کو یا جو بھی حضرت مسیح موعود سے ملنے آتا تھا اُسے بہت تکلیفیں دیا کرتے تھے۔اور صرف باتوں تک ایذاء رسانی محدود نہیں تھی بلکہ دنگا فساد کرنے اور زدو کوب تک نوبت پہنچ جاتی تھی۔مار پیٹ تک ہو جاتی تھی۔اگر کوئی احمدی مہاجر بھولے سے کسی زمیندار کے کھیت میں رفع حاجت کے واسطے چلا جاتا ( ہمارے دیہاتوں کے رہنے والے جانتے ہیں کہ وہاں تو باقاعدہ انتظام نہیں ہوتا) تو وہ سکھ جو تھے انہیں مجبور کرتے تھے کہ اپنے ہاتھ سے اپنا گند اٹھائیں اور کئی دفعہ معزز احمد کی اُن کے ہاتھوں سے مار بھی کھاتے تھے ، پٹ جاتے تھے۔اور اگر کوئی احمدی ڈھاب میں سے کچھ مٹی لینے لگتا تو یہ لوگ مزدوروں سے ٹوکریاں اور کرالیں چھین کر لے جاتے اور اُن کو وہاں سے نکال دیتے۔اور اگر کوئی سامنے سے کچھ بولتا تو گندی اور فحش قسم کی گالیوں کے علاوہ اسے مارنے کے واسطے تیار ہو جاتے۔کہتے ہیں آئے دن یہ شکایتیں حضرت صاحب کے پاس پہنچتی رہتی تھیں، مگر آپ ہمیشہ یہی فرماتے کہ صبر کرو۔لوگوں کو ہمیشہ یہی نصیحت کی کہ گالیاں سنو۔بے شک ماریں کھاؤ۔بس صبر کرو۔بعض جو شیلے احمدی حضرت صاحب کے پاس آتے اور عرض کرتے کہ حضور ہم کو صرف ان کے مقابلہ کی اجازت دے دیں اور بس پھر ہم ان کو خود سیدھا کر لیں گے۔حضور فرماتے: نہیں، صبر کرو۔ایک دفعہ سید احمد نور مہاجر کابلی نے اپنی تکلیف کا اظہار کیا۔(کابل کے رہنے والے تھے ، پٹھان تھے ) اور مقابلے کی اجازت چاہی۔غصے کی طبیعت تھی۔حضرت صاحب نے فرمایا دیکھو