خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 614 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 614

خطبات مسرور جلد ہشتم 614 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 نومبر 2010 دن انہی مفسدین کا آپ ذکر کرتے ہوں گے۔(اگر کبھی تحریر میں کسی بات میں ان لوگوں کا ذکر کر دیا تو شاید خیال آئے کہ رات دن شاید انہی لوگوں کا آپ کے دل میں خیال ہوتا ہو گا ، تب یہ کتابوں میں ذکر ہو گیا۔کہتے ہیں، نہیں اس طرح کبھی نہیں ہوا) بلکہ یک مجسٹریٹ کی طرح جو ایک مفوضہ ڈیوٹی سے فارغ ہو کر پھر کسی کی ڈگری یا dismiss یا سزا سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔وہ تو اس طرح کرتے تھے کہ جس طرح ایک مجسٹریٹ کرتا ہے، کوئی سرکاری افسر کرتا ہے کہ جو بھی اس کے فرائض میں شامل ہے وہ فیصلہ کر دیا تو پھر اُس کے بعد اُس کا کوئی تعلق نہیں ہو تا۔( یہی حال آپ کا تھا۔کتاب میں لکھنا تھا، لکھنے کی ضرورت محسوس کی، لکھ دیا۔لیکن یہ نہیں ہے کہ پھر مجلسوں میں اور محفلوں میں اس کا ہی ذکر چلتا رہا ہے)۔کہتے ہیں کہ اور نہ اسے (جس طرح مجسٹریٹ کو ) در حقیقت کسی سے ذاتی لگاؤ یا اشتعال ہوتا ہے اسی طرح حضرت صاحب بھی تحریر میں ابطال باطل اور احقاق حق کے لئے لوجہ اللہ لکھتے تھے۔(یعنی کہ حق کو ظاہر کرنے کے لئے اور جھوٹ کو جھٹلانے کے لئے ، اس کی حقیقت بیان کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی خاطر لکھتے تھے۔اس سے زیادہ کچھ نہیں تھا)۔آپ کے نفس کا اس میں کوئی دخل نہیں ہو تا تھا۔ایک روز فرمایا، میں اپنے نفس پر اتنا قابورکھتا ہوں اور خدا تعالیٰ نے میرے نفس کو ایسا مسلمان بنایا ہے کہ اگر کوئی شخص ایک سال بھر میرے سامنے بیٹھ کر میرے نفس کو گندی سے گندی گالی دیتار ہے، آخر وہی شر مندہ ہو گا۔اور اسے اقرار کرنا پڑے گا کہ وہ میرے پاؤں جگہ سے اکھاڑ نہ سکا۔(ماخوذ از سیرت حضرت مسیح موعود از مولانا عبد الکریم صاحب سیالکوٹی صفحہ 52-51۔پبلشر ز ابوالفضل محمود قادیان) حضرت میاں بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ ہماری جماعت کے اکثر پرانے دوست حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چچا زاد بھائیوں مرزا امام الدین صاحب اور مرزا نظام الدین صاحب کو جانتے ہیں۔یہ دونوں اپنی بے دینی اور دنیاداری کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سخت ترین مخالف تھے۔بلکہ حقیقت وہ اسلام کے ہی دشمن تھے۔ایک دفعہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نقصان پہنچانے کے لئے حضور کے گھر کے سامنے مسجد مبارک کے قریب دیوار کھینچ کر راستہ بند کر دیا۔یہ مشہور واقعہ ہے۔اس کی وجہ سے نمازیوں کو دقت ہوتی تھی۔ملاقاتیوں کو جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ملنے جو آتے تھے آنے جانے میں دقت ہوتی تھی۔اور تھوڑی سی جماعت جو تھی وہ سخت مشکل میں گرفتار تھے بلکہ سخت مصیبت میں گرفتار تھے گویا کہ قید ہو گئے تھے۔اس وجہ سے وکلاء کے مشورے سے قانونی چارہ جوئی کرنا پڑی اور لمبا عرصہ یہ مقدمہ چلتا رہا۔پھر آخر اللہ تعالیٰ کی بشارت کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس مقدمے سے فتح ہوئی اور دیوار گرائی گئی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وکیل نے حضور سے اجازت لینے ، بلکہ اطلاع تک دینے کے بغیر مرزا امام دین صاحب اور نظام دین صاحب کے خلاف خرچے کی ڈگری کر دی اور اس کی وجہ سے ان کی جو جائیداد تھی اس کی قرقی کا حکم جاری ہو گیا۔اور ( ان کے پاس) مرزا صاحبان کے پاس تو کچھ بھی نہیں تھا جو دیتے۔انہوں نے باوجو د ساری دشمنی کے جب فیصلہ حضرت مسیح