خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 616 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 616

خطبات مسرور جلد ہشتم 616 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 نومبر 2010 اگر امن اور صبر کے ساتھ یہاں رہنا ہے تو یہاں رہو اور اگر لڑنا ہے اور صبر نہیں کر سکتے تو کابل چلے جاؤ۔چنانچہ یہ اسی تعلیم کا نتیجہ تھا کہ بڑے بڑے معزز احمدی جو کسی دوسرے کی ذراسی بات بھی برداشت نہیں کر سکتے تھے وہ ذلیل و حقیر لوگوں کے ہاتھ سے تکلیف اور ذلت اٹھاتے تھے اور دم نہ مارتے تھے۔مگر ایک دفعہ ایسا اتفاق ہوا کہ ایک غریب احمدی نے اپنے مکان کے واسطے ڈھاب سے کچھ بھرتی اٹھائی ( مکان کے لئے اس نے کچھ مٹی اٹھائی۔) تو سکھ وغیرہ ایک بڑا جتھہ بنا کر اور لاٹھیوں سے مسلح ہو کر اُن کے مکان پر حملہ آور ہو گئے۔پہلے تو احمدی بچتے رہے لیکن جب انہوں نے بے گناہ آدمیوں کو مار ناشروع کیا اور مکان کو بھی نقصان پہنچانے لگے تو بعض احمدیوں نے بھی مقابلہ کیا جس پر طرفین کے آدمی زخمی ہوئے اور بالآخر حملہ آوروں کو بھا گنا پڑا۔چنانچہ یہ پہلا موقعہ تھا کہ قادیان کے غیر احمدیوں کو عملاً پتہ لگا کہ احمدیوں کا ڈر اُن سے نہیں بلکہ اپنے امام سے ہے۔اس کے بعد پولیس نے اس واقعہ کی تحقیقات شروع کی اور چونکہ احمدی سراسر مظلوم تھے اور غیر احمدی جتھہ بنا کر ایک احمدی کے مکان پر جارحانہ طور پر لاٹھیوں سے مسلح ہو کر حملہ آور ہوئے تھے اس لئے پولیس با وجود مخالف ہونے کے اُن کا چالان کرنے پر مجبور تھی۔جب ان لوگوں نے دیکھا کہ اب ہتھکڑی لگتی ہے تو ان کے آدمی حضرت صاحب کے پاس دوڑے آئے کہ ہم سے قصور ہو گیا ہے۔حضور ہمیں معاف کر دیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے معاف کر دیا۔(ماخوذ از سیرت المحندی جلد اول حصہ اول روایت نمبر 140۔صفحہ 129 تا131 مطبوعہ ربوہ) حضرت یعقوب علی صاحب عرفانی لکھتے ہیں کہ میرٹھ سے احمد حسین شوکت نے ایک اخبار شحنہ ہند جاری کیا ہوا تھا۔یہ شخص اپنے آپ کو مجددالسنة المشرقیہ کہا کرتا تھا۔(یعنی کہ مشرقی زبانوں کا مجدد)۔حضرت مسیح موعود کی مخالفت میں اس نے اپنے اخبار کا ایک ضمیمہ جاری کیا جس میں ہر قسم کے گندے مضامین مخالفت میں شائع کرتا۔اور اس طرح پر جماعت کی دل آزاری کرتا۔میرٹھ کی جماعت کو خصوصیت سے تکلیف ہوتی۔کیونکہ وہاں سے ہی وہ گندہ پر چہ نکلتا تھا۔2 اکتوبر 1902ء کا واقعہ ہے کہ میرٹھ کی جماعت کے پریذیڈنٹ جناب شیخ عبد الرشید صاحب جو ایک معزز زمیندار اور تاجر ہیں تشریف فرما تھے۔حضرت اقدس کی خدمت میں عرض کیا کہ میں نے ارادہ کیا ہے کہ ضمیمہ شحنہ کہند کے توہین آمیز مضامین پر عدالت میں نالش کر دوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ہمارے لئے خدا کی عدالت کافی ہے۔یہ گناہ میں داخل ہو گا اگر ہم خدا کی تجویز پر تقدم کریں۔اس لئے ضروری ہے کہ صبر اور برداشت سے کام لیں۔(کیونکہ ایسا گندہ لٹریچر تھا کہ جو لوگ گندگی کے لحاظ سے اُس لٹریچر سے واقف ہیں ، وہ کہیں گے کہ اس پر ضرور مقدمہ ہونا چاہئے تھا)۔(ماخوذ از سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام مصنفہ شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی صفحہ 114-113) پھر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب حضرت مسیح موعود کی ایک نصیحت جو آپ نے اپنی جماعت کو کی لکھتے ہیں۔مفتی محمد صادق صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میاں الہ دین صاحب عرف فلاسفر نے جن کی زبان