خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 589
589 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 نومبر 2010 خطبات مسرور جلد ہشتم لائبریری کے لائبریرین تھے۔پڑھنے کا شوق تھا۔1964ء میں تعلیم الاسلام کالج میں عربی کی کلاسیں شروع ہوئی ہیں تو پھر ایم۔اے عربی کی اور وہاں طلباء کا پہلا پیچ (Batch) تھا اس میں یہ شامل تھے۔اور عربی میں پوری یونیورسٹی میں اس سال انہوں نے پہلی پوزیشن لی۔1931ء میں حضرت مصلح موعودؓ نے جو احمد یہ کور قائم کی اس کے بھی آپ ممبر تھے۔اور 1934ء میں نیشنل لیگ کے قیام پر آپ بھی اس میں شامل تھے۔1938ء میں خدام الاحمدیہ کے ابتدائی ممبران میں شامل ہوئے اور معتمد خدام الاحمدیہ مرکزیہ، ایڈیٹر خالد اور قائمقام صدر کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔اس وقت حضرت مصلح موعودؓ خود صدر مجلس خدام الاحمدیہ تھے۔1947ء میں ہجرت کے موقع پر حضرت اناں جان اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی باقی اولاد کے ساتھ ہی یہ قافلے کو لے کر آئے۔1948ء میں فرقان بٹالین میں شرکت کی۔اور 1948ء میں ربوہ کی سر زمین پر جو خیمے گاڑھے گئے تھے ان کا انتظام بھی آپ کے ذمے تھا اور پہلی رات آپ کو ربوہ میں بسر کرنے کی توفیق ملی۔حضرت مصلح موعودؓ نے آنا تھا تو ان کو پہلے بھیجا گیا تا کہ خیمے وغیرہ گاڑیں۔یہ جب ربوہ آبادی کے لئے گئے ہیں تو یہ اور عبد السلام اختر صاحب خیمے اور چھولداریاں سائبان وغیرہ لے کر گئے۔سیلاب کی وجہ سے راستے کٹے ہوئے تھے ایک لمبے راستے سے ان کو آنا پڑا۔اس زمانے میں تعلیم الاسلام سکول عارضی طور پر چنیوٹ میں ہوتا تھا۔اور اس کے ہیڈ ماسٹر سید محمود اللہ شاہ صاحب تھے۔ان کو انہوں نے کہا کہ ہم نے رات وہاں رہنا ہے تو لڑکوں کے ہاتھ کچھ لالٹین بھجوا دیں تا کہ روشنی ہوتی رہے۔جب ربوہ پہنچے ہیں تو اس وقت سورج ڈوب رہا تھا۔انہوں نے اندازہ لگایا کہ ربوہ کی جو زمین ہے اس کا وسط کہاں ہے ؟ در میان کہاں ہے ؟ اور پھر وہاں انہوں نے خیمے لگائے۔بنجر اور بیابان جگہ تھی، جو چند لوکل، مقامی را بگیر وہاں سے گزرا کرتے تھے ، وہ بڑے حیران کہ اس جگہ یہ دو آدمی بیٹھ کے کیا کر رہے ہیں ؟ بہر حال جو سامان لانے والے ٹرک تھے ان کو انہوں نے رخصت کیا۔اور خاموشی سے یہ دونوں وہاں بیٹھ گئے ، دعائیں کرنے لگے۔نظمیں سنانے لگے۔اختر صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے شعر بلند آواز سے سنانے لگے۔کہتے ہیں کہ اس وقت کیونکہ آبادی تھی نہیں اور ارد گرد سب پہاڑ تھے تو پہاڑوں سے ٹکراکر ان کی نظموں کی آواز جو تھی، وہ اور زیادہ گونج پیدا کر رہی تھی۔پھر انہوں نے دیکھا کہ دور سے ایک ہلکی سی روشنی نظر آرہی ہے۔یہ شاہ صاحب کو جو کہہ کے آئے تھے ناکہ سکول کے بچوں کے ہاتھ لالٹینیں بھجوا دیں تو دیکھا کہ چھ میل کے فاصلے سے وہ بچے ان کے لئے لالٹین لے کے آرہے تھے ، جن میں سے دو بچے بنگالی تھے اور ایک سیلون کا تھا۔بہر حال یہ بچے بھی کافی دیر سے پہنچے۔اس کے بعد رات کو احمد نگر وہاں قریبی گاؤں ہے ، وہاں سے ان کو کھانا آیا تو اس طرح انہوں نے یہ پہلی رات ربوہ میں بسر کی۔اسی طرح ان کے بہت سے تاریخی کام ہیں۔حضرت مصلح موعودؓ نے 1940ء میں بھی علماء کی کمی پوری کرنے کے لئے نوجوانوں کو تیار کرنے کی خاطر مختلف مضامین میں غیر از جماعت جید علماء سے تدریس کا