خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 588
خطبات مسرور جلد ہشتم 588 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 نومبر 2010 ان پر ہمیشہ ظلم ہوتے چلے آرہے ہیں۔1974ء میں بھی ان کے ایک بھائی شیخ مشتاق صاحب کو ضلع بدر کر دیا گیا تھا۔1974ء کی کارروائی میں مولانا دوست محمد صاحب شاہد جب مدد کیا کرتے تھے تو ان کو حوالوں کے لئے دو کتب کی ضرورت پڑی۔شیخ صاحب اُن دنوں میں اسلام آباد ہوتے تھے۔ان سے ذکر کیا تو انہوں نے وہاں جا کر دو دفعہ وہ کتاب لا کر دی جو حوالے کے لئے چاہئے تھی اور اسمبلی کی کارروائی میں حوالہ دینے کے کام آئی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے نوجوانی میں ہی یہ جماعت کے بڑے خدمت گزار تھے۔ان کو 2008ء میں اغوا بھی کر لیا گیا تھا اور پھر تاوان دے کر ان کو رہائی ملی۔پہلے تو اغوا کرنے والے ان پر بڑی سختی کرتے رہتے تھے۔لیکن جب دیکھا کہ یہ تو نمازیں پڑھنے والا اور ذکر الہی کرنے والا، تہجد پڑھنے والا ہے تو پھر آہستہ آہستہ ان کا دل نرم ہو گیا۔اور دل نرم ہونے کے بعد یہ اثر ہوا کہ اس گرمی میں ٹھنڈے پانی اور پنکھے کی سہولت میسر کر دی۔اور پھر یہ بھی اغوا کرنے والوں کے دل کی نرمی ہے کہ جتنے پیسے وہ مانگ رہے تھے، اس سے کم پر ان کو رہا کر دیا۔یہ تو ان کا حال ہے۔کچھ عرصہ پہلے ان کی دکان کے قریب بم رکھ کر اس کو اڑانے کی کوشش کی گئی تھی اس سے بھی کچھ نقصان ہوا تھا۔بہر حال ہمیشہ سے یہ مردان میں ہیں۔یہ خود بھی اور ان کا خاندان بھی بڑی سختیاں جھیلتا چلا جا رہا ہے۔اللہ تعالیٰ ان شہید کے درجات بلند کرے اور باقی خاندان کو بھی اپنی حفاظت میں رکھے بلکہ ہر احمدی کو اپنی حفاظت میں رکھے جو مردان میں یا پاکستان کے کسی بھی شہر میں ہے۔کیونکہ دشمنوں کے ارادے بد سے بد تر ہوتے چلے جارہے ہیں۔نمازوں کے بڑے پابند تھے اور خطبات بڑے غور سے سنتے تھے اور اپنے سارے خاندان کو سنوایا کرتے تھے۔مختلف جگہوں پر خدمتِ خلق کا کام، رفاہ عامہ کا کام بھی کیا کرتے تھے۔مردان شہر میں مختلف جگہوں پر ٹھنڈے پانی کی سہولت کے لئے بجلی کے واٹر کولر لگوا کر دیئے ہوئے تھے۔اہلیہ کے علاوہ ان کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ایک بڑے بیٹے زخمی ہیں۔بچوں کی عمر اٹھائیس سال سے لے کر بیس سال تک ہے۔۔اللہ تعالیٰ ان سب لواحقین کو بھی صبر اور ہمت اور حوصلہ دے۔حفاظت میں رکھے۔ابھی نمازوں کے بعد انشاء اللہ ان کا نماز جنازہ غائب پڑھاؤں گا۔اس کے علاوہ ہمارے سلسلے کے ایک پرانے بزرگ مکرم چوہدری محمد صدیق صاحب ہیں جو خلافت لائبریری کے انچارج ہوتے تھے۔ان کی گزشتہ دنوں وفات ہوئی ہے۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ واقف زندگی تھے اور 1915ء میں پیدا ہوئے۔1906ء میں ان کے والد نے بیعت کی تھی۔ان کی والدہ کی تو اس سے پہلے کی یعت تھی۔1935ء میں انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے مولوی فاضل کیا اور تیسری پوزیشن لی۔اس کے بعد جامعہ احمدیہ میں داخلہ لے لیا۔اور 1938ء میں وہاں سے فارغ ہو کر حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت میں وقف کی درخواست دی۔پھر 1960ء میں انہوں نے پرائیویٹ بی۔اے کیا اور لائبریری سائنس کا ڈپلومہ کیا۔خلافت