خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 587
قف 587 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 نومبر 2010 خطبات مسرور جلد ہشتم اور اِنَّ اللهَ مَعَ الصَّبِرِينَ (البقرة : 154) کا اعزاز حاصل کرنے کے لئے ہر قسم کی مشکلات میں سے گزرتا چلا جاتا ہے۔بلکہ جان تک کا نذرانہ پیش کرنے میں کوئی عار نہیں سمجھتا۔انہیں لوگوں کو خدا تعالیٰ نے یہ خوشخبری بھی دی ہے کہ أُولَبِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوتَ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَبِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ ( البقرة:158) کہ یہی وہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے برکتیں نازل ہوتی ہیں اور رحمت بھی ہے اور یہی لوگ ہدایت پانے والے ہیں۔پس ہمیں کوئی جو چاہے کہے یا کہتا چلا جائے کہ اتنے لمبے عرصے کے جو ابتلا ہیں یہ تمہیں جھوٹا ثابت کر رہے ہیں۔ہمیں اس کی ذرہ بھر بھی پرواہ نہیں کیونکہ خدا تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔خدا تعالیٰ ہمارے ان ابتلاؤں پر صبر کی وجہ سے ہم پر برکتیں نازل فرمارہا ہے جن کو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور ہم ہی ہیں جنہیں ہدایت یافتہ ہونے کی سند بھی اللہ تعالیٰ عطا فرمارہا ہے۔پس ہمارا کام ہے کہ جو بھی ہم پر گزر جائے کبھی صبر اور دعا کے دامن کو ہاتھ سے نہیں جانے دینا، کبھی اس کو نہیں چھوڑنا تا کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے ہم وارث بنتے چلے جائیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔اس کے بعد اب میں ایک شہید کا ذکر خیر کروں گا جن کو گزشتہ دنوں میں مردان میں شہید کر دیا گیا۔یہ مکرم شیخ محمود احمد صاحب ابن مکرم نذیر احمد صاحب ہیں۔آٹھ نومبر سوموار کے دن تقریب رات کو پونے آٹھ بجے یہ اور ان کا بیٹا عارف محمود اپنی دکان سے گھر واپس آرہے تھے۔گھر کے قریب پہنچے ہیں تو نا معلوم موٹر سائیکل سواروں نے ان پر فائرنگ کر دی۔بیٹا موٹر سائیکل چلارہا تھا اور شیخ صاحب پیچھے بیٹھے تھے۔فائر نگ کرنے والوں نے پیچھے سے فائر کیا تھا۔اس کے بعد فرار ہو گئے۔تین فائر شیخ محمود احمد صاحب کو لگے اور ایک فائر ان کے بیٹے عارف محمود کو لگا۔فائرنگ کے نتیجے میں شیخ صاحب موقع پر وفات پاگئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَاإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔بیٹا زخمی ہے ہسپتال میں داخل ہے۔اٹھائیس سال اس کی عمر ہے۔اللہ تعالیٰ اس کو شفائے کاملہ عاجلہ عطا فرمائے۔بیٹے نے بھی بڑی جرآت کا مظاہرہ کیا ہے۔اس سے جب ربوہ سے بات کی گئی تو اس نے کہا فکر نہ کریں۔یہ گولیاں اور یہ زخمی کرنا ہمارے ایمانوں کو نہیں ہلا سکتا۔اس کی مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ زخمی ہوا ہوں۔انشاء اللہ تعالیٰ ہم اسی طرح ڈٹے ہوئے ہیں اور کوئی فکر کی بات نہیں۔شہید مرحوم کے دادا نے 1907ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔اس طرح ان کو صحابی ہونے کا شرف بھی حاصل تھا۔ان کے والد نے 1932ء میں خلیفتہ المسیح الثانی کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔یہ لوگ کوئٹہ میں رہتے تھے۔پھر 1935ء میں مردان آگئے۔اور دو مہینے پہلے مسجد مردان پر جو حملہ ہوا تھا، اس میں ان کے بھتیجے شیخ حامد رضا شہید ہوئے تھے۔یہ تجارت پیشہ خاندان ہے۔اللہ کے فضل سے کاروبار ان کا اچھا چل رہا ہے۔اس کی وجہ سے مخالفین و معاندین کی نظر میں تھے۔شیخ صاحب اور ان کے بھائیوں کو مختلف وقتوں میں اسیر راہ مولی رہنے کی بھی توفیق ملی۔ان لوگوں پر بیس (20) جماعتی مقدمات ہیں۔اور