خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 574 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 574

خطبات مسرور جلد ہشتم 574 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05 نومبر 2010 یہاں میں ایک بات کی یاد دہانی کروا دوں کہ میں پرانا ریکارڈ دیکھ رہا تھا تو مجھے حیرت ہوئی کہ 1988ء میں برطانیہ کے وعدے اور وصولی پاکستان کے علاوہ دنیا کے مقابلے میں دوسرے نمبر پر تھی اور پھر آہستہ آہستہ آہستہ پیچھے چلتے چلے گئے۔اب یہ اعزاز جو آپ نے پہلے نمبر کا حاصل کیا ہے اس کو گزشتہ روایت کے مطابق دوبارہ ہاتھ سے جانے نہ دیں۔یہ قائم رہنا چاہئے انشاء اللہ تعالیٰ۔یہاں برطانیہ میں بھی احمدی ہونے کی وجہ سے جو دشمنی بڑھ رہی ہے ، غیر احمدیوں سے بعض عورتوں نے بھی مار کھائی ہے ، ہو سکتا ہے مردوں نے بھی کھائی ہو، اس کے یہ اچھے نتیجے نکل رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تھوڑی سی جسمانی قربانی کے بدلے میں مالی قربانی کو بھی آگے بڑھا دیا۔بعضوں کے کاروبار متاثر ہوئے ہیں۔غیر احمدیوں نے بعض علاقوں میں جہاں یہ لوگ زیادہ تھے شور مچایا کہ ان سے کوئی چیز نہ خریدی جائے۔بعضوں کو ملازمتوں سے نکالا جو غیر احمدیوں کے ملازم تھے۔لیکن اس کے باوجود یہ جو دشمنی تھی یہ راس آئی ہے اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کے خلاف جو دشمنی ہے وہ کھاد کا کام کرتی ہے۔برطانیہ کے چندے کے اضافے میں اس وقت لجنہ کا بھی بہت بڑا حصہ ہے۔ان کا جو ٹارگٹ تھا میں نے ایک دفعہ ان کو کہا کہ اس کو بڑھایا جاسکتا ہے۔سو اللہ تعالیٰ کے فضل سے لجنہ برطانیہ نے گزشتہ سال کی نسبت اس سال تقریباً کوئی پینتالیس ہزار پاؤنڈ کا اضافہ کیا ہے۔اور گل رقم میں میرا خیال ہے 1/3 حصہ یا اس سے زیادہ لجنہ کا ہے۔تیسرے نمبر پر امریکہ ہے۔پھر جرمنی ہے۔جرمنی اب اتنا پیچھے رہ گیا ہے کہ اگر آپ یہ maintain رکھیں تو ان کا ساتھ ملنا مشکل ہی ہو گا لیکن بہر حال اگر ان کو بھی غیرت آگئی تو بعید نہیں کہ وہ بھی آگے نکل سکیں۔کیونکہ جرمنی والوں کا پہلے یہ خیال تھا کہ ہم اتنا آگے نکل گئے ہیں کہ اب برطانیہ کا جمپ لے کر ہم سے ملنا بڑا مشکل ہو گا۔لیکن اس دفعہ یہ غیر معمولی جمپ ہوا ہے۔پھر کینیڈا ہے پانچویں نمبر پر، پھر انڈیا ہے، پھر انڈونیشیا ہے، آسٹریلیا ہے، پھر عرب ملک ہے جس کا نام مصلحتا میں نہیں لے رہا۔پھر سوئٹزرلینڈ ہے اور اس کے ساتھ ہی تقریباً جڑا ہوا تھیم ہے، ذرا سا معمولی سا فرق ہے۔پاکستان کے حالات جیسا کہ ہم جانتے ہیں گزشتہ کئی سالوں سے بہت نامساعد حالات ہیں۔معاشی لحاظ سے بھی اور احمدیوں کے تو خاص طور پر بہت زیادہ۔اور اس سال تو سیلاب کی وجہ سے معاشی حالات میں اور بھی زیادہ شدت آگئی تھی۔خاص طور پر ڈیرہ غازی خان اور مظفر گڑھ وغیرہ کے جو علاقے ہیں وہاں کے زمیندار بہت بُری طرح متاثر ہوئے ہیں لیکن ایک عجیب حیرت انگیز بات سامنے آئی ہے کہ ان علاقوں کی جماعتوں نے بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ ٹارگٹ پورے کئے ہیں جو مرکز سے ان کو دیئے گئے تھے۔گاؤں کے گاؤں ان کے بہہ فصلیں بہہ گئیں ، تباہ ہو گئیں۔بے سر و سامانی کی حالت میں وہاں سے اٹھ کے آئے ہیں اور جیسا کہ میں نے کہا