خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 575 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 575

خطبات مسرور جلد ہشتم 575 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05 نومبر 2010 مجموعی طور پر جو ملک کے حالات ہیں اس کا تو احمدیوں پر اثر ہے ہی لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیاوی نقصان سے ایمانوں میں کمی نہیں آئی بلکہ اس میں اضافہ ہوا ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ اپنے ٹارگٹس پورے کئے ہیں۔لاہور کی جماعت ہے۔امسال پاکستان کا جو مکمل جائزہ ہے ، سامنے آئے گا۔اس میں لاہور صف اوّل پر ہے۔اس سے پہلے میں مقامی کرنسی میں گزشتہ سال کے مقابلے پر زیادہ وصولی کے لحاظ سے جو جماعتیں ہیں وہ بتادوں۔ایک تو وہی عرب ملک ہے جس کا میں نے کہا میں ذکر نہیں کر رہا۔دوسرے نمبر پر انڈیا ہے۔انہوں نے اپنی مقامی کرنسی کے لحاظ سے چوالیس فیصد سے زیادہ وصولی کی ہے۔اور انڈیا میں بھی بعض علاقوں میں جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے دشمنی کے حالات شدت اختیار کر رہے ہیں۔بہت زیادہ احمدیوں کو تکالیف کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لیکن اس سے مالی قربانی میں تیزی پیدا ہوئی ہے۔پھر آسٹریلیا ہے تیسرے نمبر پر۔پھر UK ہے۔پھر پاکستان ہے۔پھر کینیڈا۔پھر سوئٹزر لینڈ، امریکہ اور بیلجیئم۔فی کس ادا ئیگی میں امریکہ سب سے آگے ہے۔پھر نمبر دو پر ایک عرب ملک ہے۔پھر سوئٹزر لینڈ ہے نمبر تین پر۔پھر دیتی ہے باسٹھ پاؤنڈ فی کس۔پھر کہا بیر ساٹھ پاؤنڈ فی کس۔پھر جاپان، برطانیہ، بحرین، آئرلینڈ، فرانس، کینیڈا، آسٹریلیا ہیں۔گزشتہ کچھ عرصے سے بلکہ کئی سالوں سے اس بات پر بھی زور دیا جا رہا ہے کہ تحریک جدید میں شامل ہونے والوں کی تعداد کو بڑھایا جائے۔خاص طور پر جو نو مبائعین ہیں اور بچے ہیں خواہ وہ معمولی رقم ہی کیوں نہ دیں تحریک جدید میں ضرور شامل ہوں۔چنانچہ جماعتوں کی طرف سے اس طرف بھی توجہ پیدا ہوئی ہے اور ہر سال شاملین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب شامل ہونے والوں کی یہ تعداد چھ لاکھ بائیس ہزار سے زیادہ ہو چکی ہے۔پچھلے سال پانچ لاکھ کچھ ہزار تھی۔اس سال تیس ہزار کا اضافہ ہوا ہے۔اس میں ابھی بھی گنجائش ہے۔خاص طور پر افریقن ممالک کوشش کریں۔نو مبائعین چاہے چند پینس (Pence) ہی کیوں نہ دیں لیکن چندے کی عادت ڈالنی چاہئے۔اس سے بھی کافی اضافہ ہو سکتا ہے۔مبلغین کے فرائض میں یہ بھی داخل ہے کہ وہ بھی اس طرف توجہ دلوایا کریں۔مالی قربانی ہو گی تو جماعتی تعلق میں بھی مضبوطی پیدا ہو گی۔اللہ تعالیٰ سے تعلق بھی بڑھے گا۔اس کا اظہار بھی اللہ تعالیٰ نے کئی جگہ قرآن کریم میں فرمایا ہے۔تعداد اور وصولی کے بارہ میں یہ بھی یاد رکھیں کہ جیسا کہ میں نے دفتر پنجم کے اجراء کے وقت کہا تھا کہ نئے پیدا ہونے والے بچے یانئے شامل ہونے والے چندہ دہند یا نو مبائعین وغیرہ 2005ء کے بعد تحریک جدید میں شامل ہوتے ہیں تو ان کو دفتر پنجم میں شامل کرنا ہے۔پاکستان میں اس بات کا خیال رکھا جارہا ہے۔باہر کے ممالک میں بھی 2005ء کے بعد جتنے نئے تحریک جدید کے چندے میں شامل ہو رہے ہیں ان کے سامنے دفتر پنجم لکھا کریں